خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 355
خطابات شوری جلد دوم ۳۵۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء بجٹ کو اُس کی حد میں رکھنے کے متعلق تجاویز (۱) یہ قانون کر دیا جائے کہ دورانِ سال میں جو تغیر انجمن بجٹ میں کرے اُس کے لئے خود بجٹ میں سے گنجائش نکالے، بجٹ کو زائد نہ کیا جائے۔(۲) کسی افسر کو کسی سہ ماہی میں را بجٹ سے زائد خرچ کرنے کا اختیار نہ ہو سوائے خاص منظوری کے۔اور انجمن ہر اُس درخواست کو رڈ کر دے جو خرچ کرنے کے بعد منظوری کے لئے دی گئی ہو۔(۳) بجٹ میں زیادتی کی کوئی تجویز دوران سال میں پیش نہ ہو سوائے مندرجہ ذیل صورتوں کے (الف) جو تجویز خلیفہ وقت کی طرف سے ہو۔(ب) انجمن کی طرف سے ہو اور ناظر بیت المال اس کی ذمہ داری لے۔بعض ضروری تشریحات میں نے تجویز کیا ہے کہ آئندہ تین مبلغوں کا با قاعدہ لینا بند کیا جائے۔اس بارہ میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جامعہ کی آخری دو جماعتیں اُڑا دی جائیں ؟ اگر ایسا کیا گیا تو ایک تو جامعہ کا موجودہ عملہ بے کار ہو جائے گا، دوسرے بوقت ضرورت مشکلات پیش آئیں گی۔سو اس بارہ میں میری تجویز یہ ہے کہ عملہ کو بیکا ر نہ کیا جائے اور جماعتیں جاری رہیں۔صرف یہ کیا جائے کہ ان جماعتوں میں طب اور دوا سازی کا علم بڑھا دیا جائے۔مثلاً س۲۳ وقت تحصیل طب میں طلباء خرچ کریں اور ۳ را دوسرے علوم کی تحصیل میں اور فارغ ہو کر مناسب جگہوں پر مطب کھول دیں۔چونکہ یہ طلباء عربی زبان میں اچھے ماہر ہوں گے، تھوڑی محنت سے علم طب کے مبادی اور اصول سیکھ سکیں گے۔جس کی مدد سے وہ خود مطالعہ سے علم بڑھا سکیں گے۔اس وقت طبیبوں کی لیاقت کا جو معیار عام طور پر پایا جاتا ہے اس سے زیادہ لیاقت یہ پیدا کر سکتے ہیں بشرطیکہ ہوشیار ہوں۔خصوصاً جبکہ ہمارا اپنا ہسپتال ہے اور تشریح اور مرہم پٹی اور تھوڑی سی کمپونڈری بھی وہ وہاں سیکھ سکتے ہیں۔اس طریقہ سے ایک وسیع جال طبیبوں کا پھیلایا جا سکتا ہے۔یہ لوگ عربی مدارس قائم کر کے بھی مفید کام کر سکتے ہیں۔