خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 340
۳۴۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم کے کسی اور شخص کا نہایت پھٹا پرانا جوتا پہن کر چل پڑے۔راستہ میں کسی نے دیکھا تو پوچھا نواب صاحب آپ کے پاؤں میں کس کا جوتا ہے؟ اس پر اُنہوں نے آنکھیں کھولیں اور جوتا دیکھ کر گھبرا گئے اور نوکر سے کہنے لگے جلدی سے یہ جوتا مسجد میں لے جاؤ اور وہیں جا کر رکھ دو کہیں اس جوتے کا مالک مجھے چور نہ سمجھ لے۔اس کے بعد کچھ پتہ نہیں چلا کہ انہوں نے نماز قائم رکھی یا نہیں۔تو دراصل ضرورت کے وقت اگر کوئی قانون بدل جاتا ہے تو یہ بالکل اور بات ہوتی ہے اور اس پر اصل قانون کی بناء نہیں رکھی جاتی۔اسی طرح مبلغوں کے متعلق جو قانون رہے گا وہ تو یہی ہے کہ مبلغ ایسے ہوں جو واقعہ میں نمونہ ہوں لیکن ضرورت کے وقت اس میں تبدیلی بھی ہو سکتی ہے۔اور گو یہ ضروری نہیں کہ ان مبلغوں سے لازماً لوگ فائدہ اُٹھا ئیں مگر بہر حال ہم پر جو فرض عائد ہوتا ہے وہ ادا ہوسکتا ہے۔جب کہیں روشنی کی جاتی ہے تو یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر شخص منزلِ مقصود پر پہنچ جائے لیکن اس روشنی کا یہ فائدہ ضرور ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اُس میں چل پڑے تو خواہ ایک ٹمٹماتا ہوا چراغ ہو وہ اُسے راستہ دکھا دیتا ہے۔اسی طرح وہ مبلغ جو اس ہدایت کے ماتحت لئے جائیں گے وہ لوگوں کے لئے ایک مشعلِ راہ ہوں گے اور جو بھی اُن کے پیچھے چلیں گے اپنے منزل مقصود تک پہنچ جائیں گے۔بعض دوستوں کو یہ غلط فہمی مدرسہ احمدیہ کے اساتذہ کا معیار بلند ہونا چاہیے ہوئی ہے کہ شاید مدرسہ احمدیہ کو توڑے جانے کی تجویز ہے حالانکہ یہ درست نہیں۔جو سوال اس وقت زیر غور ہے وہ مدرسہ احمدیہ کی موجودہ شکل کو بہتر شکل میں بدل دینے کا ہے نہ کہ اسے بالکل تو ڑ دینے کا۔مدرسہ کی موجودہ حالت یہ ہے کہ بدترین اُستاد چھانٹ کر نظارت نے وہاں لگا دیئے ہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ میں سال سے وہاں انگریزی کی تعلیم دی جا رہی ہے اور آٹھ دس سال سے تو انگریزی تعلیم لازمی قرار دی گئی ہے مگر مدرسہ احمدیہ کے فارغ التحصیل کسی مبلغ سے پوچھ کر دیکھ لو۔حرام ہے کہ وہ انگریزی کا ایک فقرہ بھی صحیح بول سکے۔اس کی وجہ سوائے اس کے اور کوئی نہیں کہ عملہ میں نہایت روی آدمی رکھ لئے جاتے ہیں۔حالانکہ مبلغوں کے دماغ میں جس قسم کی تعلیم داخل کرنے کی ضرورت ہے اُس کے لحاظ سے چاہئے