خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 330

خطابات شوری جلد دوم ۳۳۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء ہمارے تمہارے دونوں کے لئے پورا نہ ہو بہتر یہ ہے کہ بیچنے والوں کے پاس جا کر اپنے واسطے مول لے لو۔جب وہ مول لینے جا رہی تھیں تو دولہا آ پہنچا اور جو تیار تھیں وہ اُس کے ساتھ شادی میں چلی گئیں اور دروازہ بند کیا گیا۔پیچھے وہ باقی کنواریاں بھی آئیں اور کہنے لگیں اے خداوند! اے خداوند !! ہمارے لئے دروازہ کھول دے۔اُس نے جواب میں کہا میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں تمہیں نہیں جانتا۔پس جاگتے رہو کیونکہ تم نہ اُس دن کو جانتے ہو نہ اُس گھڑی کو ، یک یہ ایک لطیف تشبیہہ ہے جو حضرت مسیح ناصری نے دی۔اس میں دولہا سے مراد حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہیں اور تیل لینے سے جو ذخیرہ میں تھا مرا درسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ہے اور آپ کا مطلب اس سے یہ ہے کہ تمہارے لئے وہی تیل کافی نہیں ہوگا جو مسیح اول نے دیا بلکہ تمہیں ایک نیا لیمپ دیا جائے گا۔جو لوگ اس تیل کو لے لیں گے یعنی اسلام کو قبول کر کے اس کی روشنی میں چلیں گے ، وہی مسیح ثانی پر بھی ایمان لاسکیں گے۔مگر جو محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے تیل سے اپنے لیمپوں کو روشن نہیں کریں گے انہیں مسیح ثانی کی معرفت بھی نصیب نہیں ہوگی۔چنانچہ دیکھ لو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر زیادہ تر ایمان لانے والے وہی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی ایمان رکھتے ہیں مگر جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انکار کر دیا وہ آپ کی شناخت سے بھی محروم ہو گئے اور اُنہوں نے آپ کو دیکھ کر کہہ دیا کہ ہم انہیں کیوں مانیں یہ غیر ہیں اور ہم میں سے نہیں ہیں۔پس وہ دلہنیں جو شمع ہاتھ میں لئے اپنے دولہا کا انتظار کر رہی تھیں اور تیل اور فتیلہ لئے چوکس اور تیار کھڑی تھیں، انہوں نے آسمان سے اپنے مسیح کو اترتے دیکھ لیا۔مگر وہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لائے ہوئے نور سے منور نہ ہوئے ، ان کی بینائی جاتی رہی اور وہ آپ کو شناخت کرنے سے محروم رہے۔پس اس تمثیل سے حضرت مسیح نے اپنی بعثت اول اور بعثتِ ثانی کے درمیانی زمانہ کو ایک رات سے مشابہت دی ہے پھر اس رات کی لمبائی بیان کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اتنی لمبی ہوگی کہ انتظار کرتے کرتے لوگ تھک جائیں گے مگر اسی دوران میں آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کی پیشگوئی بھی کر دی