خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 322
خطابات شوری جلد دوم ۳۲۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء قربانیوں کے اور بغیر منہاج نبوت پر چلنے کے دنیا میں کامیاب ہو سکتے ہیں تو ان سے زیادہ پاگل اور کوئی نہیں ہو سکتا اور ان کی مثال بالکل اُس بے وقوف کی سی ہوگی جس کے متعلق کہتے ہیں کہ وہ لڑائی میں شامل ہوگا اور اُسے کوئی تیر آلگا یہ دیکھ کر وہ میدان جنگ سے بھاگ پڑا اور چونکہ تیر لگنے سے خون بہنے لگ گیا تھا اس لئے وہ خون بھی پونچھتا جائے اور یہ بھی کہتا جائے کہ یا اللہ ! یہ خواب ہی ہو حالانکہ حقیقت کس طرح خواب بن سکتی ہے۔اسی طرح یہ خدا کی سنت ہے جس میں آج تک کوئی تبدیلی نہیں ہوئی اور نہیں ہو سکتی کہ جب کسی نبی کی جماعت دنیا میں کھڑی ہوتی ہے تو اُسے خطرناک مصائب سے گزرنا پڑتا ہے اسے چکی کے دو پاٹوں میں پیسا جاتا ہے تب اس موت کے بعد سے ابدی اور دائمی حیات ملتی ہے کیونکہ ابدی حیات وہی ہے جوموت کے بعد ملے۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ اسے ابدی زندگی ملے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ موت قبول کرے۔چاہے وہ موت آہستہ آہستہ آئے یا یکدم آئے۔چاہے تلوار کے ذریعہ سے آئے یا فاقہ اور قید خانہ کے ذریعہ آئے۔بہر حال وہ دیر سے آئے یا جلدی آئے ، موت کا آنا ضروری ہے اور موت کے بغیر کسی نبی کی جماعت کی ترقی نہیں ہوئی۔اس موت کی شکل بے شک بدل سکتی ہے مگر موت کی شکل بدل جانے کے یہ معنے نہیں کہ تمہارے لئے موت مقدر نہیں۔موت مقدر ہے اور ضرور ہے اور جو لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کے لئے موت کا قبول کرنا ضروری نہیں انہوں نے خدائی کتب کا کبھی گہری نظر سے مطالعہ نہیں کیا اور اُنہوں نے نہ صرف یہ کہ قرآن کو نہیں سمجھا بلکہ تو رات اور انجیل اور وید اور ژوند اوستا کو بھی نہیں سمجھا۔تم دید پڑھو تو اس میں بھی یہی نظر آئے گا۔گیتا پڑھو تو اُس میں بھی یہی دکھائی دے گا۔زند اوستا پڑھو تو اس میں بھی یہی کچھ پایا جائے گا۔بے شک یہ کتا بیں بگڑ گئیں، بے شک ان میں ہزاروں خرابیاں پیدا ہوگئیں مگر یہ تمام کتا بیں اس صداقت پر متفق ہیں کہ نبی کی جماعت کیلئے مصائب کا برداشت کرنا ضروری ہے۔چنانچہ ویدوں میں اِس لئے یہ دعائیں سکھائی گئی ہیں کہ اے ہمارے خدا ہمارے دشمنوں نے ہم کو ملیا میٹ کر دیا تو آپ ہمارا انتقام لے اور ان کو تباہ اور برباد کر۔ژوند اوستا میں بھی یہی ہے، گیتا میں بھی یہی ہے ، تو رات میں بھی یہی ہے ، انجیل میں بھی یہی ہے اور اگر کسی زمانہ میں خدا تعالیٰ کی کوئی اور کتاب ایسی معلوم ہو جس کا ہمیں آج علم نہیں تو یقیناً اس میں یہی