خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 298
خطابات شوری جلد دوم ۲۹۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء اب تم نے اُن کو نکالنے کا ارادہ کیا ہے اس لئے اُن کے حصہ کا رزق اب دوسری جگہوں پر بھیجا جائے گا۔تو رزق ہر ایک کا خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے اور جب عام حالت میں یہ ہے تو خدا تعالیٰ کے دین کا کام کرنے والے کیوں اپنا رزق ساتھ نہ لائیں گے۔کون ہے جو خدا تعالیٰ کا بندہ کہلائے اور پھر خدا تعالٰی اسے فاقہ سے مرنے دے۔پس جو اس قسم کے مبلغ ہوں گے وہ خزانہ پر کوئی بار نہیں ڈالیں گے۔اگر ان کا خرچ ایک ہزار ہوگا تو خدا تعالیٰ ڈیڑھ ہزار دے گا لیکن یہ طریق کہ ہر سال جبری طور پر مبلغ رکھے جائیں، چونکہ وقتی ضرورت پوری ہو چکی ہے اب بدل دینا چاہئے۔تعلیم حاصل کرنے کے بعد مبلغین باہر جا کر اپنا اپنا کام کریں اگر ان میں سے ہمیں کوئی موزوں آدمی نظر آ گیا تو اُسے لے لیا جائے گا۔اوّل تو ہو نہار بروا کے چکنے چکنے پات۔زمانہ طالب علمی سے ہی کچھ نہ کچھ اندازہ ہونے لگ جائے گا کہ کونسا طالب علم مبلغ بننے کی اہلیت رکھتا ہے۔لیکن باہر جا کر کام کرنے کی صورت میں تو اُس کے بارہ میں پورا علم ہو جائے گا اور جب ہم دیکھیں گے کہ اپنا کام کرنے کے ساتھ اُس نے خدا تعالیٰ کے کام کو نہیں چھوڑا تو پھر اُسے رکھ لیا جائے گا اور اس طرح آئے ہوئے مبلغ حقیقی مبلغ ہوں گے اور دوسری طرف تحریک جدید میں مبلغین کو رکھنے کا سلسلہ جاری رہے گا۔ان کے انتخاب میں بھی اس بات کو مدنظر رکھا جائے گا کہ دین کا علم رکھتے ہیں یا نہیں یا سکھ سکتے ہیں یا نہیں؟ اور ایسے مبلغ دوسروں سے بہت زیادہ مفید ہوں گے۔دو دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ میرا یہ مطلب نہیں کہ الاؤنس پر مبلغ نہ رکھے جائیں۔میں اس چیز کا مخالف ہوں کہ دکھایا کچھ جائے اور حقیقت کچھ اور ہو۔نام تو یہ ہو کہ مبلغوں کو کرایہ دیا جا رہا ہے اور در حقیقت الاؤنس یا تنخواہ ہو۔جو ضرورت ہو اس کا دلیری سے مطالبہ کرنا چاہئے اس لئے اس طریق کو بند کیا جائے۔گزشتہ سال تک تو یہ طریق تھا اب پتہ نہیں نئے ناظر صاحب کے وقت بھی جاری ہے یا نہیں ؟“ ناظر صاحب نے بتلایا کہ اب ایسا نہیں کیا جاتا۔دو دوروں کے متعلق مجلس کا مشورہ میں نے منظور کر لیا ہے یعنی یہ کہ ضروری دوروں کو نہ روکا جائے۔اس تجویز کے وقت بنگال اور بہار میرے ذہن میں نہ تھے اور ان کو مدنظر