خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 297 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 297

۲۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم پھوٹ پڑے تو اُس سے فائدہ اُٹھایا جا سکے۔گو یہ صحیح نہیں کہ علم ایمان دار بنا سکتا ہے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے انسان کا تعلق ہو۔محض علم کوئی چیز نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کاتب وحی نے جب آپ پر الہام نازل ہو رہا تھا آیت کے مضمون کی رو سے متاثر ہو کر خاتمہ کے الفاظ بے ساختہ خود بول دیئے۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ درست ہے یہی الفاظ ہیں یا لکھو تو یہ بات اُس کی ٹھوکر کا موجب ہو گئی۔اس نے کہا کہ یہ تو سُن سُنا کر الہام بنا لیتے ہیں۔پس نیکی انسان کے قلب میں پیدا ہوتی ہے، دوسری چیزیں تو بطور امداد کے ہوتی ہیں۔اگر دل میں نیکی نہ ہو تو بیرونی چیزوں سے کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔پس ان حالات میں میں سمجھتا ہوں کہ کالج کو ایسے طریق پر لانے کی ضرورت ہے کہ اس کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو ہم باہر بھیج دیں تو وہ جا کر اپنا کام کر سکیں اور پھر ہم حسب ضرورت ان میں سے مبلغ منتخب کر کے اُن سے کام لے سکیں۔یہ صحیح نہیں کہ اپنا کام کاج چلانے کے بعد اُسے چھوڑ نا مشکل ہوگا۔جس کے دل میں ایمان اور اخلاص ہو گا اسے جب بھی خدا تعالیٰ کی آواز پہنچے گی خواہ دس ہزار ماہوار آمد کیوں نہ ہو اُس پر لات مار کر آ جائے گا لیکن جس کے دل میں میل ہوگی وہ کہہ دے گا کہ اب میری تجارت چل پڑی ہے، زمیندارہ کام چل نکلا ہے اب میں نہیں آ سکتا۔ایسا شخص ہمارے اندر رہ کر بھی کام نہیں کر سکتا۔پس جو ہمارے کام کا ہے وہ کہیں جائے گا نہیں اور جو کام کا نہیں اُسے رکھ کر ہم نے کیا کرنا ہے۔اس وقت ہمارے پاس مبلغ کافی ہیں اور آئندہ کے لئے اگر کوئی صحیح معنوں میں مبلغ مل سکا تو اُسے لے لیا جائے گا ورنہ نہیں۔جو سچا مبلغ ہو گا اُس کا رکھنا کبھی بھی بوجھ کا موجب نہ ہوگا، وہ اپنا گزارہ ساتھ لائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک دنیا دار کا قصہ سنایا کرتے تھے کہ اس کے بہت سے نوکر چاکر تھے۔ایک دن اس نے خیال کیا کہ انہیں علیحدہ کر کے بچت کی صورت کی جائے لیکن رات کو اُس نے خواب دیکھا کہ اُس کا خزانہ کھلا پڑا ہے اور کچھ لوگ گڈے بھر بھر کر مال اُس میں سے نکالتے جا رہے ہیں۔اُس نے پوچھا کہ تم لوگ کون ہو اور میرا مال کہاں لے جا رہے ہو؟ انہوں نے کہا ہم فرشتے ہیں، پہلے کچھ لوگوں کا رزق تمہارے پاس تھا مگر