خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 292
خطابات شوری جلد دوم ۲۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء کی رقم دوسری جگہ خرچ کر لی جاتی ہے تو مبلغین جماعتوں میں کیسے پہنچیں۔اس کے متعلق صدر انجمن بھی جواب دہی میں ویسے ہی ذمہ وار ہے جیسے الاؤنس دینے والے۔میں سوچ رہا ہوں کہ بعض دوسرے لوگوں کو بھی صدر انجمن میں داخل کر دوں تا نگرانی اچھی طرح ہو سکے۔اب جب کے چار لاکھ کے قریب قرضہ ہو گیا ہے جو دو سال کی آمد سے بھی اُترنا مشکل ہے تو میں نے دیکھا کہ نہ تو ناظر توجہ کرتے ہیں اور نہ صدر انجمن اپنی ذمہ داری کو ھتی ہے اور نہ ہی جماعت کے احباب اپنے حق کا مطالبہ کرتے ہیں۔تو باوجود یکہ میں ایسے معاملات میں دخل نہیں دیتا لیکن اس موقع پر میں نے دخل دینا ضروری سمجھا اور ہدایت دی کہ اس کے مطابق بجٹ بنایا جائے۔اگر جماعت کے احباب مشورہ دیں گے کہ وہ اخراجات ادا کر دیویں گے تو پھر تبدیلی نہ کی جائے اور اسی طریق پر انتظام قائم رہے اور یہ امر جماعت کے مخلصین پر مشکل نہیں۔اس سے قبل بھی جب ایک دفعہ صدر انجمن احمدیہ کی مالی حالت خراب ہوگئی تو میں نے ارادہ کیا کہ اس بار کو دور کر دیا جائے۔خواہ اپنی ساری ہی جائیداد کیوں نہ فروخت کرنی پڑے اور میں نے اس کا ذکر میاں بشیر احمد صاحب سے بھی کیا۔اُنہوں نے اس سے اتفاق کیا اور غالباً چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے اُنہوں نے ذکر کیا تو وہ بھی تیار ہو گئے اور اس طرح اس وقت قریباً سات آدمی اس بوجھ کے اُٹھانے کے لئے تیار ہو گئے۔اس کی اور صورتیں بھی ہو سکتیں ہیں مگر جب تک کوئی انتظام نہ ہو تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ ایسا نہ کیا جائے۔تحریک جدید کے پہلے مبلغین کے انتخاب کے وقت صرف یہ دیکھا جاتا تھا کہ جرات کے ساتھ کام کرنے کا مادہ ہو، لیاقت کا زیادہ خیال نہیں رکھا گیا تھا۔اس وقت ایسے آدمی کی ضرورت تھی جو دلیری کے ساتھ آگ میں اپنے آپ کو ڈال دینے والا ہو۔چنانچہ ایسے لوگوں کو منتخب کر کے ہم نے بھیج دیا اور وہ مقصد حاصل بھی ہو گیا۔ان میں سے بعض دینی علوم اور عربی سے بھی اچھی طرح واقف نہ تھے۔بلکہ بعض کا تقویٰ کا معیار بھی اتنا بلند نہ تھا۔مگر اُس وقت ہمیں صرف آواز پہنچانی تھی اور دشمن کو یہ بتانا تھا کہ ہمارے پاس ایسے نو جوان ہیں جو اپنا آرام و آسائش، اپنا وطن عزیز واقارب، بیوی بچوں غرضیکہ کسی چیز کی پرواہ نہ کرتے ہوئے نکل جائیں گے۔بھوکے پیاسے رہیں گے اور دین کی خدمت کریں گے۔