خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 286
خطابات شوری جلد دوم ۲۸۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء چندہ جلسہ سالانہ کی اہمیت سب کمیٹی مجلس مشاورت کی طرف سے یہ تجویز پیش ہوئی کہ :- جلسہ سالانہ کا چندہ ایک ماہ کی آمد پر پندرہ فیصدی کی نسبت سے آئندہ لازمی چندوں کے ساتھ بجٹ میں شامل کیا جائے۔“ بعض ممبران اور جناب ناظر صاحب بیت المال نے اس تجویز کے بارہ میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔رائے شماری کے بعد حضور نے چندہ جلسہ سالانہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے فرمایا:- میں اس کے متعلق بعض باتیں کہنی چاہتا ہوں۔اوّل تو یہ کہ میرے خیال میں وہ تجویز جس کو پیش کیا جائے اُسے اپنے اعداد و شمار سے کوئی نسبت ہونی چاہئے۔اس وقت تک میرا خیال یہی تھا کہ پندرہ فیصدی چندہ جلسہ سالانہ جو طلب کیا جاتا ہے وہ کسی حساب سے طلب کیا جاتا ہے اور لازمی قرار دیا جاتا ہے اور جماعتیں اگر پورا نہ کریں تو اُن سے جواب طلبی کی جاتی ہے۔لیکن آج مجھ پر پہلی دفعہ یہ انکشاف ہوا کہ یہ چندہ جو طلب کیا جاتا ہے لازمی نہیں سمجھا جاتا اور پندرہ فیصدی مانگنے کے بعد جس نے جو کچھ دے دیا اُسی کو کافی سمجھ لیا جاتا ہے۔اگر اس قسم کے طریق کو جاری کیا جائے تو اس کے دو نہایت خراب نتائج ہوتے ہیں۔ایک تو یہ کہ لوگوں کے قلوب میں تحریکات کی وقعت کم ہو جاتی ہے اور دوسرے یہ کہ جو لوگ کام کرنے والے ہیں اُن کے کام میں سُستی پیدا ہو جاتی ہے۔اور بجائے محنت کر کے اپنے کام کو پورا کرنے کے انہیں یہ خیال آنے لگ جاتا ہے کہ اچھا اگر اب کی دفعہ چندہ کم آیا تو اگلی دفعہ میں فیصدی کی تحریک کر دیں گے اور اگر پھر بھی کم آیا تو پچیس فیصدی کی تحریک کر دیں گے۔گویا وہ شرح کو اس لئے نہیں بڑھاتے کہ اس کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ اس لئے بڑھاتے ہیں تا مخلصین کو ڈراویں اور کہیں کہ ہم کتنی بڑی قربانی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔مگر میرے نزدیک یہ طریق بالکل نا درست ہے۔میری اپنی رائے دیر سے یہ ہے اور بعض دفعہ مجالس شوریٰ میں اختصار کے ساتھ میں