خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 285 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 285

۲۸۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء خطابات شوری جلد دوم دیتا اور یہی اس کی تجارت کے راز ہوتے ہیں۔اگر وہ تجارتی راز بتا دے تو مارکیٹ میں اپنی پوزیشن کھو بیٹھے۔لیکن بغیر ان باتوں میں سے کسی بات کے دریافت کرنے کے اور بغیر حساب دکھانے کے اگر وہ یہ کہے کہ میں اپنی آمد نہیں بتا تا تو اس کا سوائے اس کے اور کوئی مطلب نہیں کہ وہ گورنمنٹ کو بھی دھوکا دینا چاہتا ہے اور خدا تعالیٰ سے بھی دھوکا کرتا ہے۔حالانکہ جیسے خدا کے ساتھ جھوٹ بولنا نا جائز ہے اسی طرح گورنمنٹ کے ساتھ جھوٹ بولنا بھی نا جائز ہے۔یہ ہوسکتا ہے کہ ہم اگر اس کا حساب دیکھیں تو ہمارا وہ آدمی جو حساب دیکھے وہ محتاط نہ ہو اور اس کا راز فاش کر دے اور اس کی تجارت کو نقصان پہنچ جائے۔لیکن ہم اگر اس پر اعتبار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تمہارا حساب نہیں دیکھتے تم صرف اتنا بتا دو کہ تمہاری آمد کیا ہے اور وہ کہہ دے کہ میں آمد بتانے کے لئے تیار نہیں تو اس کا سوائے اس کے اور کیا مطلب ہے کہ وہ گورنمنٹ کو دھوکا دے رہا ہے اور چاہتا ہے کہ انکم ٹیکس سے بچ جائے اور اسی وجہ سے ہم سے بھی حساب چُھپاتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک دفعہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا کہ میرے پاس کر یہ نہیں تھا۔میں بغیر ٹکٹ کے گاڑی پر سوار ہو گیا اور یہاں آ گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ سن کر اپنی جیب میں ہاتھ ڈالا اور روپیہ دو روپے جتنا کرایہ بنتا تھا نکال کر اُس کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا جاتی دفعہ ٹکٹ خرید لینا۔اور فرمایا یہ بھی ویسا ہی دھوکا ہے جیسے دنیا میں کوئی اور دھوکا کیا جاتا ہے اور انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے اپنی آمد غلط بتا دینا یہ بھی دھوکا ہے۔انسان کو دلیری سے اپنی آمد بتا دینی چاہئے۔اللہ تعالیٰ اس سچ کے عوض اُس کے روپیہ میں برکت دے گا اور پھر اپنی عقل سے کام لے کر کوشش کرنی چاہئے کہ آمد بڑھ جائے۔پس یہ تجویز غیر طبعی ہے اور اس بات کی کوئی وجہ نہیں کہ تاجر اپنی آمد نہ بتا ئیں۔اگر کوئی تاجر اتنا بھی نہیں بتا تا کہ اس کی آمد کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سارا بوجھ تنخوا دار کارکنوں پر ڈال دیا جائے اور وہ چندوں سے چھوٹ جائیں“۔