خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 275
خطابات شوری جلد دوم ۲۷۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۸ء آپ کو رشتے بتائے تھے جو آپ کو پسند نہیں آئے۔جس پر اُس نے کہا کہ ہم مجبور ہیں کہ ایسی حالت میں غیر احمد یوں میں رشتہ کر دیں۔میں نے کہا یہ تو شریعت کا مسئلہ ہے، میرے پاس کوئی طاقت نہیں کہ میں آپ کو اس سے روک سکوں بجز اس کے کہ آپ کو شریعت کے مسئلہ سے واقف کر دوں۔اس گفتگو کے بعد وہ چلی گئیں اور اپنے خاوند سے جا کر کہا کہ اجازت ہو گئی ہے۔پھر ان کے خاوند میرے پاس آئے کہ میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے اجازت دے دی ہے۔تو میں نے اُنہیں سارا واقعہ سُنا دیا اور کہا کہ شریعت کا مسئلہ ہے میں اجازت دینے والا کون ہوں اور کس طرح شریعت کے خلاف کر سکتا ہوں۔کچھ عرصہ کے بعد معلوم ہوا کہ انہوں نے اپنی ایک لڑکی کی غیر احمد یوں میں شادی کر دی اور بہانہ یہ بنایا کہ خلیفہ المسیح نے رشتہ کا انتظام نہیں کیا مجبور ہو گئے ہیں اور جس کے ساتھ شادی کی ہے سُنا ہے کہ وہ پرائمری پاس ہے“ اس موقع پر ایک دوست نے عرض کیا کہ حضور! وہ پرائمری پاس بھی نہیں ہے حضور نے فرمایا:۔د محض اس لئے کہ وہ ایک وزیر کی فوت شدہ بیوی کا بھائی ہے اس کے ساتھ شادی کر دی ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ امور عامہ نے جب ان سے جواب طلب کیا تو اُنہوں نے لکھ بھیجا کہ ہم نے اجازت کے بعد رشتہ کیا ہے اور اپنی بیوی کا حوالہ دے دیا کہ وہ خلیفہ اسیح سے اجازت لے آئی تھیں۔لڑکیوں کی تعلیم میں احتیاط کی ضرورت غرضیکہ ہماری جماعت کے احباب کو لڑکیوں کو تعلیم دلانے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے۔تعلیم کے بعد لڑکیوں کی قیمت زیادہ لگائی جاتی ہے اور وہ محض اس خیال سے کہ زیادہ دولت مل جائے۔لڑکی تو باپ کی ہوتی ہے مگر شرم میں محسوس کرتا ہوں کیونکہ جماعت کی لڑکیاں بھی میری ہی لڑکیاں ہیں۔سو اگر تعلیم دلانی ہے تو اس نیت سے دلانی چاہئے کہ ہم نے احمدی کے ساتھ ہی رشتہ کرنا ہے جیسا بھی میسر آجائے ، ورنہ موجودہ صورت میں تعلیم دلانا سخت دینی نقصان کا موجب ہے اور لڑکیوں کے رشتے آپ جا کر پیش کرنا یہ بھی شریعت کے خلاف ہے۔قرآن کریم صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہی اس معاملہ میں خاص کرتا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے و امراةً مُّؤْمِنَةً إِن وَهَبَتْ نَفْسَهَا النَّبِيِّ إن