خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 10
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاو مشاورت ۱۹۳۶ء کرو، شریعت اسلام کا کون سا حکم ہے جسے لوگ آسانی سے اور بخوشی ماننے کے لئے تیار ہیں۔کیا لڑکیوں کو ترکہ میں سے اُن کا حق دیا جاتا ہے غیروں کو جانے دو، اپنوں کے متعلق ہی بتاؤ کہ اس سلسلہ کو قائم ہوئے پچاس سال ہو چکے ہیں کیا ہماری جماعت کے تمام لوگ لڑکیوں کو ترکہ میں سے اُن کا حق دیتے ہیں؟ ہماری جماعت میں ۸۰ فیصدی پنجاب کے لوگ زمیندار ہیں جن کے نمائندے اس وقت یہاں بیٹھے ہیں۔وہ اپنے آپ سے پوچھ لیں کیا ان میں سے سب نے اپنی بہنوں کو ورثہ میں سے حصہ دیا؟ یہ کوئی ایسا حکم نہیں جس کے متعلق کسی قسم کا اختلاف ہو یا کسی اجتہاد کی ضرورت ہو۔سب فرقوں کے لوگ اسے درست تسلیم کرتے ہیں اور نسلاً بعد نسل پہنچایا گیا ہے مگر آج تک جماعت کا اِسے دوسروں میں قائم کرنا تو الگ رہا اپنے اندر بھی نہیں قائم کر سکی۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج تک اعتراض کیا جاتا ہے کہ مرزا صاحب نے اپنی لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا۔یہ بات کیوں پیدا ہوئی؟ اس لئے کہ لوگ ایسے احمدیوں کو دیکھتے ہیں جنہوں نے اپنی بہنوں کو حصہ نہیں دیا اور وہ کہتے ہیں ایسا ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی کیا ہو گا۔حالانکہ فرض کر لو۔( میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت طلب کرتا ہوا اور استعاذہ طلب کرتا ہوا کہتا ہوں ) اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اولاد اپنی بہنوں کو حصہ نہ دیتی تو اس میں قصور اولاد کا ہوتا نہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا۔مگر یہ خلاف واقعہ بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد اپنے خاندان کے لحاظ سے ہم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ بہنوں کو حصہ دیا اور والدہ صاحبہ کا حصہ نکالا۔اُس وقت ایک سرکاری افسر آیا جس نے آ کر کہا کہ آپ قانون کے رو سے ایسا نہیں کر سکتے۔میں نے اُسے کہا اگر ایسا نہیں ہوسکتا تو ہم ایسی جائداد اپنے پاس رکھنے کے لئے تیار نہیں اور اسے لعنت سمجھتے ہیں۔لیکن اس وجہ سے کہ احمدی عام طور پر لڑکیوں کو حصہ نہیں دیتے مخالفین نے نتیجہ نکال لیا کہ یہی مرکز میں ہوا ہوگا۔یہ جو میں نے مثال دی ہے ایسی ہزاروں اور لاکھوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔اسلام اس قدر وسعت رکھتا ہے اور اتنا وسیع ہے کہ جس کی جزئیات کا اندازہ لگانا ناممکن ہے۔اس کے اسرار روز بروز کھلتے جاتے ہیں اور دُنیا کے متعلق ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اسلام کی