خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 9
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء جائیں کہ ہر چہ بادا باد ماکشتی در آب انداختیم “ ہم نے کشتی دریا میں ڈال دی ہے اب جو بھی ہوتا ہے وہ ہو جائے۔کیا ابھی وہ وقت نہیں آیا جب ہر شخص اس ارادہ اور اس نیت سے سلسلہ کے کاموں کی طرف توجہ کرے کہ میں اب نتائج کی قطعاً پرواہ نہیں کروں گا جو ہو جائے سو ہو جائے ؟ یہ بالکل ممکن ہے کہ سب کے سب کی حالت ایسی نہ ہو اور سب کے لئے وہ وقت نہ آیا ہو مگر جن کے لئے وہ وقت آچکا ہے اور جو اپنے قلب میں اس آیت کا جواب پاتے ہیں اُن کو تو چاہئے کہ اس وقت سے فائدہ اُٹھا ئیں تا کہ وہ آگے بڑھیں اور اُن کی جگہ لینے کے لئے اور آگے آجائیں۔جس طرح اگر کسی محکمہ کے ایک عہدہ دار کو ترقی ملتی ہے تو دوسروں کے آگے آنے کے لئے جگہ نکل آتی ہے، ایسا ہی روحانیت میں بھی ہوتا ہے۔پس اگر ہم میں سے سب کے سب لوگ نہ سہی کچھ ہی ہوں جو آلمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ امَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ الله کا جواب اپنے دل میں پاتے ہوں تو وہ آگے آجائیں۔اس سے کچھ اور لوگوں کو ان کی جگہ لینے کا موقع مل جائے گا اور وہ آگے بڑھ آئیں گے۔پس سب سے پہلے میں اس امر کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہمارا کام معمولی نہیں۔اس کے لئے جس اخلاص ، جس سنجیدگی اور جس صفائی قلب کی ضرورت ہے وہ بہت بڑی قربانی، بہت پختہ ارادہ اور بہت بڑا عزم چاہتی ہے۔جب تک ہم اس ارادہ، اس نیت اور اس عزم کے ساتھ قلب کی اصلاح میں لگ نہ جائیں یہ کام معمولی کوششوں سے طے نہیں پاسکتا۔دل کی صفائی کس قدر مشکل کام ہے ہمارے ذمہ کتنا عظیم الشان کام ہے۔اور پہلوؤں کو جانے دو صرف اپنی ذات کی اصلاح کا پہلو ہی لے لیں تو دُنیا کا کوئی کام اس کے مقابلہ میں نہیں ٹھہر سکتا۔بڑے بڑے شہروں کی صفائی کرنا آسان ہے ایک دل کی صفائی کرنے کی نسبت۔کیونکہ شہر کی گندگی آنکھوں کو نظر آ جاتی ہے لیکن دل کی گندگی نظر نہیں آتی۔جن شہروں میں گندگی پھیلی رہتی ہے اُن کے باشندے اُسے محسوس کرتے اور اُسے سخت نا پسند کرتے ہیں لیکن جس دل میں گندگی ہو وہ اُسے محسوس نہیں کرتا۔اس سے ظاہر ہے کہ دل کی صفائی کتنا بڑا اور کتنا مشکل کام ہے مگر ہمارا کام ایک دل کی اصلاح کرنا نہیں بلکہ سب دُنیا کے دلوں کی اصلاح کرنا ہے۔غور تو