خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 222

خطابات شوری جلد دوم ۲۲۲ مشاورت ۱۹۳۷ء زیادہ سے زیادہ یہی ثابت کرتا ہے کہ آپ ایک سادھو تھے یا ویسے تھے جیسے درگاہوں کے فقیر ہوتے ہیں جن کے کپڑے غلیظ ہوتے ہیں اور اُن کے بالوں میں جوئیں پڑی ہوئی ہوتی ہیں۔ایک اعتراض کا جواب حضرت خلیفہ اول سنایا کرتے تھے کہ ایک دفعہ میں مسجد اقصیٰ سے درس دے کر واپس آ رہا تھا کہ راستہ میں جو ڈ پٹیوں کا مکان ہے ( جس میں آجکل صدر انجمن احمدیہ کے دفاتر ہیں ) وہاں ڈپٹی صاحب بیٹھے تھے۔مجھے دیکھ کر وہ اُٹھے اور مصافحہ کیا اور پھر کہا مولوی صاحب! ایک بات دریافت کرنی ہے۔میں نے کہا پوچھئے۔وہ کہنے لگے کیا بادام روغن اور پلاؤ کا استعمال فقیر لوگوں کے لئے بھی جائز ہے؟ میں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں یہ چیزیں پاک ہیں اور ہم اُن کے استعمال میں کوئی حرج نہیں دیکھتے۔وہ کہنے لگے میں نے سمجھا تھا فقیر لوگ یہ چیزیں استعمال نہیں کر سکتے۔درحقیقت اُن کی غرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض تھا کہ آپ نے کوئی خاص غذا نہیں مقرر کی ہوئی بلکہ اتباع نبوی میں اعلیٰ یا سادہ غذا جو غذا میسر آجائے آپ استعمال فرما لیتے ہیں اور بادام روغن تو آپ دماغی کام کی وجہ سے اور بیماری کی وجہ سے کبھی علاج معالجہ کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔مؤرخین کے لئے ہدایات تو ہمیشہ مؤرخ کو عقل سے کام لینا چاہئے اور نقالی کا مادہ اپنے اندر سے نکال دینا چاہئے۔ہاں جو اُس زمانہ کا مؤرخ ہو جس زمانہ کی وہ تاریخ لکھنا چاہتا ہے اُس کا یہ کام ہے کہ وہ واقعات جمع کر دے اور بعد میں آنے والے مؤرخوں کا یہ کام ہے کہ وہ واقعات کی صحیح ترتیب قائم کر کے ایسے رنگ میں تاریخ مرتب کریں جس سے اُس شخص کا اصل کیریکٹر سامنے آ جائے۔طبری تک لوگوں کا یہ کام تھا کہ وہ محض واقعات جمع کرتے اور بعد کے مؤرخوں کا یہ کام تھا کہ وہ ایسی طرز پر اُن واقعات کو ڈھالتے کہ اس شخص کا کیریکٹر ہر شخص کے سامنے آجا تا۔اسی طرح اور بہت سی علمی کتب کی ضرورت ہے، اگر ہمارے دوست اس طرف توجہ کریں تو میں بھی انہیں کچھ مدد دے سکتا ہوں مگر یہ نہیں کہ مجھ سے کتاب لکھوائیں بلکہ اس طرح جس طرح بعض دوست جب لیکچر دینا چاہتے ہیں تو میرے پاس آتے ہیں اور میں اُنہیں نوٹس بتا دیتا