خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 221 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 221

خطابات شوری جلد دوم ۲۲۱ مشاورت ۱۹۳۷ء سب کو نعوذ باللہ روحانیت سے گرا ہوا سمجھنا پڑے گا اور حضرت ابو بکر کے متعلق بھی کہنا پڑے گا کہ وہ ساری عمر میں صرف ایک دفعہ اس معیار پر پورے اترے۔غرض مرکزی نکتہ کو مد نظر رکھ کر کتاب لکھنی چاہئے اور ایسی باتیں پیش نہیں کرنی چاہئیں جو مضحکہ خیز ہوں۔یہی چیزیں ہیں جنھیں دیکھ کر مسلمانوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو پلاؤ کھاتے ہیں تو اس میں مٹی ملا لیتے ہیں اور یہی باتیں جب غیر مذاہب والے سنتے ہیں تو انہیں خیال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام کے مسائل عقل کے مطابق نہیں۔الفضل، ہمارے سلسلہ کا آرگن ہے لیکن اس میں متعدد دفعہ ایسے مضامین شائع ہوئے ہیں۔پہلے ایک لکھتا ہے اور دو چار مہینے کے بعد وہی مضمون اپنے الفاظ میں نقل کر کے کوئی دوسرا دُہرا دیتا ہے اور اس بات کو بالکل نہیں سمجھا جاتا کہ ان مضامین کے نتیجہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض واقعہ ہو جائے گا اور مخالف کہے گا کہ اگر یہ نیکی ہے تو آیا یہ نیکی ان میں بھی پائی جاتی تھی جن کو تم نبی ، رسول اور دُنیا کا نجات دہندہ سمجھتے ہو۔نیکی کیا ہے؟ یاد رکھو نیکی صرف یہ ہے کہ اسلام کی ضرورت کے مطابق قرآن کریم کی حدود کے اندر رہ کر کام کیا جائے۔نیکی کسی خاص فعل کا نام نہیں بلکہ ایک ہی فعل جو ایک وقت میں نیکی ہوتا ہے بعض دفعہ دوسری حالت میں بدی بن جاتا ہے۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک دفعہ ایک صحابی کو سونے کے کڑے پہنائے ، کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رویا میں اُس کے ہاتھ میں سونے کے کڑے دیکھے تھے۔اُس نے پہنے سے انکار کیا تو آپ نے کہا پہن ورنہ میں تجھے کوڑے لگاؤں گا اب آپ نے وہاں ۱۲ پیوند نہیں لگوائے بلکہ اُسے سونے کے کڑے پہنائے ہیں کیونکہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک پیشگوئی پوری ہوتی تھی۔تو نیکی یہ ہے کہ تم اسلام کی حدود کے اندر زمانہ کی ضروریات کے مطابق اسلام کے مطالبہ کے ماتحت کام کرو۔یہی وہ امور ہیں جو مصنف کو اپنے مدنظر رکھنے چاہئیں۔اگر کوئی مصنف حضرت عمرؓ کے سوانح حیات لکھتا ہے، اور وہ ان امور کو مدنظر نہیں رکھتا اور نہ یہ بتاتا ہے کہ آپ کی زندگی زمانہ کے مطابق تھی اور آپ اُن تمام قربانیوں میں حصہ لیتے تھے، جن کا اُس وقت مطالبہ ہوتا تھا تو وہ