خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 195
خطابات شوری جلد دوم ۱۹۵ مشاورت ۱۹۳۷ء اے ہمارے رسول یا اے قرآن کے پڑھنے والے! اگر جو قرآن کے مخالف ہیں،اُن کا اعراض کرنا تمہیں بڑی بات معلوم ہوتی ہے اور تم سمجھتے ہو کہ ان کی مخالفت اس حد تک پہنچی ہوئی ہے کہ اب ان کا سُدھار اور ان کی اصلاح مشکل ہے، تو اے انسان! تو کبھی اس وہم میں مبتلا نہ ہونا۔یعنی دشمن کے انکار اور اس کی مخالفت کو کبھی ایسا نہ سمجھنا کہ اس کی اصلاح ناممکن ہو گئی ہے۔فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أن تَبْتَغِي نَفَقًا في الأرض۔یہ عربی کا قاعدہ ہے کہ شرط کی جزا حذف کر دی جاتی ہے۔پس اس کے معنے یہ ہیں کہ اگر تمہیں طاقت ہو کہ تم زمین میں کوئی سُرنگ لگاو ارسلها في السماء یا تمہیں طاقت ہو کہ تم آسمان کے لئے کوئی سیڑھی تیار کر وفتاتيهم بأيةٍ اور اُن کے لئے کوئی نشان لے آؤ، تو ایسا کرو۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ جو چیزیں یہاں بیان کی گئی ہیں وہ ایسی نہیں جو ممکن نہ ہوں۔بلکہ قرآن نے ان کو خود پیش کیا ہے اور وہ دو چیزیں ہیں۔دُنیا میں بھی انسان جب جنگوں میں کسی قلعہ کو فتح کرنا چاہتا ہے تو وہ ذرائع ہی اختیار کرتا ہے۔یعنی کبھی تو سرنگ لگا کر قلعہ کو اُڑا دیتا ہے اور اس کو فتح کر لیتا ہے، اور کبھی سیڑھیوں سے اُن کے اُوپر چڑھتا اور اندر اُتر جاتا ہے۔گویا دُنیا میں یا تو قلعوں کی دیوار میں اُڑائی جاتی ہیں یا دیوار میں مغلوب کر لی جاتی ہیں اور یہ دونوں باتیں نا ممکن نہیں۔پس یہاں وہ ذرائع بتائے گئے ہیں جن کو دُنیا ہمیشہ استعمال کرتی چلی آئی ہے، اور یہی دو ذرائع فتوحات حاصل کرنے کے ہیں۔یعنی یا سرنگ یا دوسرے ذرائع سے دیوار میں توڑ دی جاتی ہیں، یا سیڑھیوں سے چڑھ کر قلعوں کو فتح کیا جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ روحانی طور پر بھی یہی دو ذرائع خدا تعالیٰ نے تمہاری کامیابی کے لئے مقرر کئے ہیں۔یعنی جب تم سمجھو کہ دشمن کی مخالفت بہت بڑھ گئی ہے تو ایک طرف جس قدر دنیوی سامان ہیں سب اُن کی ہدایت کے لئے استعمال کرو اور دوسری طرف آسمان سے سیڑھی لگاؤ اور اُس کے اُوپر چڑھنا شروع کر دو۔یہ سیڑھی کون سی ہوسکتی ہے؟ معمولی عقل رکھنے والا انسان بھی سمجھ سکتا ہے کہ یہ سیڑھی دُعا کی سیڑھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ جس طرح دُنیا کے قلعے فتح ہوتے ہیں، اسی طرح تم روحانی قلعے فتح کرو۔وہ دیواروں کو یا اُڑا دیتے ہیں یا اُن کو پھاند کر اندر داخل ہو جاتے ہیں۔اور یہی دو ذریعے ایسے ہیں جن پر عمل کر کے روحانی جنگ میں بھی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے یعنی ایک طرف