خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 190 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 190

خطابات شوری جلد دوم ۱۹۰ مشاورت ۱۹۳۷ء یوروپین قو میں پہلی حماقت میں مبتلا ہیں اور مسلمان دوسری حماقت میں۔وہ ایک مکان بناتی ہیں ، اُس کو دروازے لگاتی ہیں، اُس پر چھت ڈالتی ہیں اور اُسے پوری طرح مضبوط کرنے کے بعد کہہ دیتی ہیں کہ اب اسے آگ بھی نہیں لگ سکتی ، اسے زلزلہ بھی نہیں گر ا سکتا اور مسلمان اپنے مکان کے لئے آٹھ فٹ کی دیوار ایک ہی کھڑا کرتا ہے نہ اس کی دیوار میں پوری نہ اُس پر چھت، اور اُسے مکان کہنے لگتا ہے، اور اس کا نام تو تکل علی اللہ رکھتا ہے۔مگر یہ تو کل نہیں سستی اور غفلت ہے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پہلے اپنے اونٹ کا گھٹنا با ندھو اور پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کرونا، یعنی جہاں تک تم کام کر سکتے ہوکر و لیکن جب تمہارے ہاتھ شل ہو جا ئیں اور تمہیں کوئی تدبیر دکھائی نہ دے، اس وقت بیٹھ جاؤ اور اللہ تعالیٰ کی طرف نگاہ رکھو۔اس کا نام ہے تو کل۔گویا جب تم ساری تدابیر اختیار کر لو اور تمہاری عقل کہتی ہو کہ اب کوئی چیز باقی نہیں رہی اور دُنیا کے علوم کہتے ہوں کہ جتنے علاج ممکن تھے وہ سب ہو چکے، جب عقل کہتی ہو کہ اب کوئی رخنہ باقی نہیں رہا اور جب تجر بہ کہتا ہو کہ اب کوئی سقم نہیں رہا، اُس وقت تم کہو کہ اس کام میں ضرور کوئی نہ کوئی رخنہ ہے، جسے خدا پورا کرے گا۔گویا ایک تو کل علمی ہوتا ہے اور ایک عملی۔علمی تو گل وہ ہے جب تمہاری عقل اور دُنیا کی عقل، اور تمہارا تجربہ اور دُنیا کا تجربہ متفقہ طور پر فتوی دیتا ہو کہ اب کام مکمل ہو گیا ، مگر تم یہ کہو کہ یہ مکمل نہیں ضرور اس میں کوئی رخنہ ہے، جسے خدا پورا کرے گا۔اور عملی تو کل یہ ہے کہ جتنے ذرائع حصول مقصد کے خدا تعالیٰ نے مقرر کئے ہیں، تم اُن سب ذرائع کو اختیار کرتے ہو، جتنی قربانی ممکن ہے وہ سب قربانی پیش کرتے ہو اور جب تمہارے تمام ذرائع ختم ہو جاتے ہیں، تمہاری ساری کوششیں پوری ہو چکتی ہیں، لیکن ابھی اس کام کے پورا کرنے کے لئے بہت سے سامانوں کی ضرورت ہوتی ہے، اور ابھی بہت سی محنت درکار ہوتی ہے اور دُنیا سمجھتی ہے کہ اب تم رہ گئے ، اور کامیابی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو تمہارا دل مطمئن ہوتا ہے اور مایوسی تمہارے قریب نہیں پھٹکتی۔تم اپنی قلیل پونجی خرچ کرتے جاتے ہو، اور اپنے خون کا آخری قطرہ بہاتے جاتے ہو، اور یقین رکھتے ہو کہ خدا تعالیٰ تم کو نہیں چھوڑے گا ، اور تم اللہ تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو کر رہو گے۔یعنی ایک وہ تو کل ہے جب تمہارا علم یہ کہتا ہو کہ اب کوئی رخنہ باقی نہیں رہا لیکن تم یہ کہتے ہو کہ رخنہ