خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 189
خطابات شوری جلد دوم ۱۸۹ مشاورت ۱۹۳۷ء بیمار تھیں تو تین تجربہ کار ڈاکٹر ان کا علاج کر رہے تھے۔اُنہوں نے انہیں دیکھ کر کہا کہ انہیں کوئی تکلیف نہیں، محض اعصابی کمزوری کی شکایت ہے، حالانکہ اس مشورہ کے چند گھنٹوں کے اندر اندر وہ فوت ہو گئیں۔تو انسانی اندازے بہت دفعہ غلط ہو جاتے ہیں۔کئی دفعہ ڈاکٹر کہہ دیتے ہیں فلاں مریض اب مرنے لگا ہے اور وہ بچ جاتا ہے اور کئی دفعہ کہتے ہیں کہ بچ جائے گا اور وہ مر جاتا ہے۔اس بارہ میں اُن کی طرف سے کوئی بے احتیاطی نہیں ہوتی مگر اُن کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ جہاں تک اُن کی نگاہ پہنچتی ہے اُس کے اوپر بھی راستے اور سوراخ ہیں، موت کے لئے بھی اور حیات کے بھی۔بہر حال سامانوں کی تکمیل کو انتہاء تک پہنچانے کے بعد انسان خوش ہو جاتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ تکمیل کوئی چیز نہیں۔تھوڑے ہی دن ہوئے اخباروں میں مضامین شائع ہوئے تھے کہ امپیریل ائیرویز نے ہوائی جہازوں کی سلامتی کے لئے انتہائی حد تک کوشش کی ہے اور اب اُس نے نہایت محفوظ جہاز بنالئے ہیں۔ان جہازوں کے رائج ہو جانے کے بعد حادثات کا امکان بالکل جاتا رہے گا کیونکہ راستہ کے تمام چارٹ لنڈن میں لگے ہوئے ہوں گے، اور وائرلیس کے ذریعہ جہاز کو ہدایات پہنچتی رہیں گی کہ اب راستہ میں فلاں پہاڑ ہے، فلاں خطرہ ہے اور اس سے محفوظ رہنے کا یہ طریق ہے۔لطیفہ یہ ہے کہ پرسوں کے ایک اخبار میں ایک طرف تو یہ نقشہ چھپا اور دوسری طرف یہ خبر درج تھی کہ وہ جہاز جو اس تجربہ کے لئے روانہ کیا گیا تھا وہ فرانس میں ہی ٹوٹ کر گر گیا۔یہ پہلا سفر تھا جو اُس نے الیگزنڈرا ( مصر ) آنے کے لئے کیا لیکن باوجود اس قدرسلامتی کی تجاویز اختیار کرنے کے وہ فرانس میں جہاں ایک ایک سواری کا جہاز بھی آسانی سے اُتر جاتا ہے گر کر تباہ ہو گیا ، اور سفر بھی مکمل نہ کر سکا اور عین اُس وقت جب لنڈن کا مرکز اُسے ہدایات دے رہا تھا ، ایک پہاڑ سے ٹکرا کر چکنا چور ہو گیا۔تو انسانی عقل باوجود اپنے کمال کو پہنچ جانے کے پھر بھی تمام کمزوریوں کا احاطہ نہیں کر سکتی اور ایسے رخنے رہ جاتے ہیں جن کو پورا کرنا خدا تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوتا ہے انسان کے اختیار میں نہیں۔اور اگر کوئی انسان کہے کہ میں اپنا کام ایسا مکمل کرلوں کہ اُس میں کوئی رخنہ اور سوراخ باقی نہ رہے تو یہ حماقت ہوگی اسی طرح یہ بھی حماقت ہے کہ انسان اسباب کو بالکل نظر انداز کر دے۔اس وقت