خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 5
خطابات شوری جلد دوم مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء یہ فیصلہ خود جماعتیں اور افراد ہی کر سکتے ہیں۔ہاں ایک فیصلہ ہے جو ہم میں سے ہر وہ شخص کر سکتا ہے جو حالات سے واقف ہو اور وہ یہ ہے کہ ہماری مجموعی کوشش اور جد و جہد کا نتیجہ کیا نکلا۔اسے مد نظر رکھتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس مجلس شوری کے نتائج اتنے شاندار نہیں نکلے جتنے شاندار نکلنے چاہیئے تھے کیونکہ جو بیداری اس کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے تھی اور جو ہوشیاری اس میں شامل ہونے والے نمائندوں کو اپنی اپنی جماعتوں میں جا کر پیدا کرنی چاہئے تھی وہ اُس حد تک اور اتنی وسعت سے نظر نہیں آتی جتنی اس مجلس کے نتیجہ میں پیدا ہونی چاہئے تھی۔پس مجموعی نتائج کو مد نظر رکھتے ہوئے میں کہہ سکتا ہوں کہ ہماری یہ مجلس اپنی غرض اُس حد تک پوری نہیں کر رہی جس حد تک اسے پوری کرنا چاہئے تھی اور جس حد تک پورا کرنے کی ضرورت ہے۔مومن کی علامت مومین کا ہر کام ہمیشہ سنجیدہ ہوتا ہے۔وہ کسی کام کو جس میں ہاتھ ڈالتا ہے کبھی بے تو جہی اور بے دلی سے نہیں کرتا۔جب وہ کسی کام کے متعلق سمجھتا ہے کہ وہ مفید ہے تو اس میں ہاتھ ڈالتا ہے اور پھر اس کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیتا ہے اور جب تک اسے پورا نہ کر لے اسے چین نہیں آتا۔منافق کی علامت یہ منافق کی علامت ہوتی ہے کہ ایک بحث میں لگ جاتا ہے، بڑھ بڑھ کر باتیں بناتا ہے مگر جب کام کرنے کا وقت آتا ہے تو کہہ دیتا ہے کہ میں تو یونہی بنسی کر رہا تھا۔اگر ہم بھی صرف باتیں کریں اور پھر کہہ دیں کہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تھے اور گھروں کو چلے جائیں تو ہم اپنے نفاق کا فتویٰ اپنے قول سے دینے والے ہوں گے۔ہمارا عظیم الشان مقصد لیکن اگر ہماری باتیں ہنسی کے طور پر نہیں ہوتیں بلکہ ہمارے سامنے ایک مقصد اور مدعا ہے تو ہمیں اپنے اقوال سے اپنے افعال کو متحد بنانا چاہئے اور ہماری زندگی کے ۳۶۲ دن مجلس مشاورت کے ان تین دنوں کے مطابق ہونے چاہئیں۔اگر ان کے مطابق نہیں ہیں تو اس کے لازمی طور پر معنی یہ ہوں گے کہ گو قولا ہم نہ کہیں مگر فعلا اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ تین دن ہم محض ہنسی اور تمسخر میں خرچ کرتے ہیں۔ہمارے سامنے جو کام ہے وہ معمولی کام نہیں ہے۔اگر ہم