خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 4
مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء خطابات شوری جلد دوم تبْخَلُوا وَ يُخْرِجُ اصْغَانَكُمْ هَاَنْتُمْ هَؤُلاء تُدْعَونَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ الله فَمِنْكُمْ مِّن يَبْخَلُ وَ مَن يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْسِهِ وَ اللَّهُ الْغَنِيُّ وانْتُمُ الْفُقَرَاء وَإِن تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِل قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا آمَا لَكُمْ پھر فرمایا:۔دُنیا میں نادانی اور کم عقلی کی یہی پہچان ہوتی ہے کہ عقلمند انسان اپنا وقت نفع اور فائدہ حاصل کرنے کے لئے خرچ کرتا ہے مگر بے وقوف اپنا وقت بے فائدہ اور بے غرض خرچ کر دیتا ہے۔ہم لوگ سالانہ اس اجتماع کے لئے جمع ہوتے ہیں، باتیں کرتے ہیں، بعض بحثیں بھی کرتے ہیں ، بعض بحث کرتے ہوئے تیز بھی ہو جاتے ہیں، بعض اپنی رائے پر اتنا زور دیتے ہیں کہ گویا اگر اُسے قبول نہ کیا گیا تو دُنیا ادھر کی اُدھر ہو جائے گی مگر ان ساری باتوں کا نتیجہ کیا ہوتا ہے؟ اگر ہماری ان گفتگوؤں اور ہماری ان بحثوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کے دین اور اُس کی مخلوق کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو یقیناً یہ اجتماع خدا تعالیٰ کی رضا، اُس کی خوشنودی اور برکت کے حصول کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔اگر ہم محض شغل کے لئے جمع ہوتے ہیں اور ایک عادت کے طور پر اسے کرتے چلے جاتے ہیں جس طرح ایک افیونی افیون کھا کر اور ایک بھنگ پینے والا بھنگ پی کر آرام محسوس کرتا ہے اسی طرح سال کے بعد عادت پوری کر کے ہم بھی اپنے گھروں کو چلے جاتے ہیں تو یقیناً یہ اجتماع ہمارے لئے فائدہ مند نہیں ہو سکتا اور خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کا موجب نہیں ہوسکتا۔نہ سلسلہ کے لئے اور نہ ہمارے لئے مفید ہوسکتا ہے۔مجلس شوری کے نتائج یہ معلوم کرنا کہ یہ اجتماع کہاں تک سلسلہ کے لئے اور ہمارے لئے مفید ہوتا ہے اس کے متعلق ہر جماعت کا ہر نمائندہ سوچ سکتا ہے اور فیصلہ کر سکتا ہے۔بالکل ممکن ہے کہ یہ اجتماع بعض جماعتوں کے لئے مفید ہو۔بالکل ممکن ہے کہ بعض افراد کے لئے بھی مفید ہو اور ممکن ہے کہ بعض جماعتوں کے لئے اور بعض افراد کے لئے مفید نہ ہو۔پس اس میں شمولیت کہاں تک روحانی ترقی کا موجب بنتی اور خدا تعالیٰ کی رضا کا مستحق بناتی ہے اس کا فیصلہ افراد کے لحاظ سے کرنا میرے لئے مشکل