خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 163 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 163

خطابات شوری جلد دوم ۱۶۳ مشاورت ۱۹۳۷ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مثال بیان فرمایا کرتے تھے کہ راجہ رنجیت سنگھ کے دربار میں ایک مسلمان بھی وزیر تھے۔وہ وزیر ہونے کے علاوہ طبیب بھی تھے اور بڑے نرم دل تھے۔ایک دفعہ اُن کے پاس کوئی فقیر آیا اور اس نے سوال کیا کہ مجھے کچھ دیجئے۔اُس زمانہ میں مسلمانوں کی حالت سخت خراب تھی اور اُن کے پاس سینکڑوں فقراء آتے تھے جن کی وہ تھوڑی تھوڑی رقم سے امداد کر دیتے تھے کیونکہ ایک تو اُس زمانہ میں تنخواہیں کم ہوتی تھیں ، دوسرے مسلمان زبوں حالی کی وجہ سے سینکڑوں بطور سائل کے اُن کے پاس آتے رہتے تھے۔چنانچہ اس فقیر کو بھی انہوں نے آٹھ آنہ دینے کا حکم دیا وہ آٹھ آنے لے کر کہنے لگا دیکھئے ہم سب مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اب یہ بھی کیا مساوات ہے کہ ایک بھائی کے پاس تو ہزاروں روپے ہوں اور ایک کے پاس صرف اٹھتی۔انہوں نے جواب دیا کہ صرف تو ہی ایک بھائی نہیں بلکہ اور بھی ہزاروں بھائی ہیں۔اگر سب میں میں بٹھتی اٹھتی تقسیم کرنے لگوں تو پھر یہ اٹھنٹی بھی حصہ میں نہیں آئے گی۔پس تم کو اپنے حصہ سے زیادہ ہی مل گیا ہے مگر اُس نے اصرار کیا نہیں کچھ اور بھی دیں۔اُنہیں ضروری کام تھا اور وہ چاہتے تھے کہ جلدی چھٹکارا ہو مگر وہ پیچھا نہ چھوڑتا۔آخر وہ اپنے نوکر سے کہنے لگے انہاں فقیر صاحب نوں پولے پولے دھکے دے کر باہر کڈھ دیو حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ مثال ہمیشہ اس ضمن میں سنایا کرتے تھے کہ نرم دل انسان کو غصہ بھی آتا ہے تو اس میں بھی نرمی کا پہلو جھلک رہا ہوتا ہے۔اب دھکے دِلوانا غصہ کی ایک علامت تھی مگر پولے پولے دھکے کہنا ان کی نرم طبیعت کا اظہار تھا۔تو زیادتی اگر تھوڑی تھوڑی بھی ہو تو کچل سکتی ہے۔جیسے مسلمان وزیر نے کہا کہ اگر میں سب کو آٹھ آٹھ آنے دینے لگوں تو میرے پاس کچھ بھی نہ رہے اور غریب پھر بھی باقی رہ جائیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ کہنا بھی درست نہیں کہ ہر بوجھ میں زیادتی نقصان رساں ہوتی ہے۔جب زیادتی کی ضرورت ہو اور دین کا کام ہو اور عقل فیصلہ کرتی ہو کہ اب زیادتی ہونی چاہئے تو اُس وقت کوئی زیادتی جماعت کو کچل نہیں سکتی۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔لا يكلف الله : : : : : : : : اللہ تعالی اس میں یہ قانون بیان فرماتا ہے کہ ہم اپنی جماعتوں پر اتنا ہی بوجھ لادا کرتے ہیں جتنے بوجھ کی ضرورت ہوتی ہے۔اب اگر کسی