خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 162
خطابات شوری جلد دوم ۱۶۲ مشاورت ۱۹۳۷ء بڑے آرام سے رات گزر جاتی ہے۔اس کے علاوہ ہمارے پاس ایک قرآن شریف ہے۔کبھی میں اُسے پڑھتی ہوں اور کبھی میرا بیٹا اُسے پڑھ لیتا ہے۔اس سے زیادہ ہمیں اور کیا چاہئے۔تو انسان اگر تو کل کرے تو جب اُس کے پاس روپیہ ہو، وہ کہتا ہے یہ میرا روپیہ نہیں خدا تعالیٰ کا ہے۔اور جب روپیہ پاس نہ ہو تو وہ کہتا ہے خدا دینے والا ہے وہ آپ میری ضرورتوں کو پورا کرے گا۔غرض رونق ایمان سے ہے نہ کہ روپیہ سے۔میں نے پچھلی مجلس شوری پر ہی جو اکتوبر میں منعقد ہوئی تھی ، بیان کیا تھا کہ اگر جماعت حقیقی قربانی کرنے پر تیار ہو جائے تو ایک سال کیا ایک مہینہ میں ہی عظیم الشان ترقی حاصل ہو سکتی ہے لیکن بات یہ ہے کہ جماعت میں کچھ نہ کچھ کمزور طبائع ہوتی ہیں جو مضبوط طبائع کے لئے پتھر بن جاتی ہیں اور اُنہیں آگے بڑھنے نہیں دیتیں اور کچھ طاقتور ہوتے ہیں جو اپنے کمزور بھائیوں کی طرف نگاہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں جب اُنہوں نے کم قربانی کی تو ہم سے کیوں زائد قربانی کی امید رکھی جاتی ہے۔گویا دوسرے کی نقل کے شوق میں وہ اپنے ایمان کو کم کر رہے ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ترقی کی رفتار میں کمی آجاتی ہے۔بعض دوستوں نے بیان کیا ہے کہ بوجھ اگر تھوڑا سا بڑھا دیا جائے تو اس میں کیا حرج ہے اور بعض نے کہا ہے کہ بوجھ بڑھانے میں سخت حرج ہے۔جو شخص ایک من بوجھ اُٹھا سکتا ہے وہ ایک من دوسیر بوجھ کس طرح اُٹھا سکتا ہے۔یہ بظاہر ایک فقرہ ہے مگر اس فقرہ کے پیچھے ایک فلسفہ ہے اور چونکہ اس کے پیچھے ایک فلسفہ ہے، میں نے سمجھا کہ اسے نظر انداز کرنا درست نہیں۔میرے نزدیک یہ کہنا بھی درست نہیں کہ اگر تھوڑا سا بوجھ بڑھا دیا جاوے تو اس میں کیا حرج ہے اور یہ کہنا بھی غلط ہے کہ جو ایک من بوجھ اُٹھا سکتا ہے وہ ایک من دو سیر بوجھ کس طرح اُٹھائے۔دیکھنا یہ چاہئے کہ بوجھ ہے کیا اس بوجھ کا قابل برداشت یا نا قابل برداشت ہونا بوجھ کی قسم پر منحصر ہوتا ہے۔اگر وہ بوجھ جس کو ہم بڑھاتے ہیں کمر توڑنے والا اور نقصان پہنچانے والا ہے تو ایسے بوجھ کو اگر ہم تھوڑا سا بھی بڑھائیں گے تو نقصان پہنچے گا اور ایسے بوجھ کا بڑھانا حماقت ہو گا مثلاً اگر ہم ایسا بوجھ تولہ تولہ بھی بڑھائیں تو کئی تو لے مل کر کئی چھٹانک اور پھر کئی سیر وزن ہو جائے گا اور جماعت کی ترقی کو بہت ضعف پہنچے گا۔پس ہم نے محض تھوڑے بوجھ کو نہیں دیکھنا بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ اُس بوجھ کا اثر کیا ہے۔