خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 155

خطابات شوری جلد دوم ۱۵۵ مشاورت ۱۹۳۷ء بعض اہم مقامات میں خاص طور پر تبلیغی مرکز قائم کئے جائیں۔اس سوال کا ایک تو اصلی حصہ ہے یعنی ایسے مرکزوں کی کیا ضرورت ہے اور وہ ضرورت کس حد تک ہے اور دوسرا حصہ اس کا وہ ضمنی گفتگو ہے جو مختلف دوستوں کی طرف سے اس موقع پر کی گئی۔مجلس شوری کے آداب میں سب سے پہلے اس دوسرے حصہ کو لیتا ہوں اور پھر اس میں سے سب سے پہلے اس امر کی طرف دوستوں کو توجہ دلانی چاہتا ہوں کہ متواتر کئی سال سے میں احباب کو یہ بات بتا رہا ہوں کہ اس وقت جو دوست جمع ہوتے ہیں بطور مجلس شوری کے جمع ہوتے ہیں مگر افسوس کہ باوجود اس کے کہ سات آٹھ سال سے میں جماعت کے دوستوں کو اس طرف توجہ دلا رہا ہوں پھر بھی مغربیت ہمارے دوستوں کا پیچھا نہیں چھوڑتی اس لئے آج میں پھر اس امر کو واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ہماری مجلس کوئی پارلیمنٹ (PARLIAMENT) نہیں ہے، کوئی لیجسلیٹو اسمبلی (LAGISLATIVE ASSEMBLY) نہیں ہے بلکہ خالص اسلامی مجلس شوری ہے یعنی آپ لوگ خواہ جماعتوں کی طرف سے نمائندہ بن کر آئیں ، خواہ مرکز کی طرف سے آپ کو نامزد کیا جائے ، خواہ صدر انجمن احمدیہ کے کارکن ہوں ، خواہ دوسرے لوگ ، آپ کے اس جگہ جمع ہونے کی محض اتنی ہی غرض ہوتی ہے کہ آپ خلیفہ وقت کو اپنی رائے اور اپنے خیالات سے آگاہ کر دیں پس جب کہ اس مجلس کی بنیاد ہی اس اصول پر ہے کہ اس میں صرف احباب خلیفہ وقت کے سامنے اپنا مشورہ پیش کرنے کے لئے جمع ہوتے ہیں تو خطاب کلّی طور پر خلیفہ وقت سے ہوتا ہے نہ آپس میں ایک دوسرے سے، مگر با وجود بار بار سمجھانے کے دوست ایک دوسرے کو مخاطب کرنے لگ جاتے ہیں اور ایک دوسرے کا نام لے کر اعتراض کرنے یا جواب دینے لگ جاتے ہیں حالانکہ اس مجلس کے آداب کے لحاظ سے ہر دوست کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ اس وقت اُس کے سامنے صرف ایک ہی وجود ہے جو خلیفہ وقت کا وجود ہے۔جب تک کوئی نمائندہ اس مجلس میں بیٹھتا ہے اُس کو اپنے دائیں اور اپنے بائیں بیٹھنے والے آدمیوں سے ناواقف رہنا چاہئے اور سمجھنا چاہئے کہ میں ہی اکیلا خلیفہ وقت سے خطاب کر رہا اور اُس کے سامنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہا ہوں۔مشورے کی غرض بالکل فوت ہو جاتی ہے اگر احباب اس بات کی پابندی نہ کریں اور اُن