خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 140
خطابات شوری جلد دوم ۱۴۰ مشاورت ۱۹۳۷ء اجازت نہیں دیتا۔عدالت میں یہ مقدمہ پیش ہوا اور عدالت نے تسلیم کیا کہ واقعہ میں یہ بہت بڑا ظلم ہے، اس صورت میں طلاق ضرور مل جانی چاہئے۔تو محض اس لئے کہ یورپین مصنفین کی کتابوں میں طلاق کا لفظ آ گیا یہ سمجھ لینا کہ اسلامی طلاق اور وہ طلاق ایک ہی ہے یا محض اس لئے کہ ان کتابوں میں مساوات کا لفظ آ گیا یہ خیال کر لینا کہ اسلامی مساوات اور ان کی مساوات ایک ہی چیز ہے، بہت بڑی غلطی ہے۔دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اور یہ نادانی ہو گی اگر خیال کر لیا جائے کہ امراء کے متعلق جو اسلام نے تعلیم دی ہے وہی فلاں یورپین فلاسفر نے بھی پیش کی ہے۔اُس فلاسفر نے جو کچھ کہا ہوگا نامکمل اور ناقص ہوگا اور وہ کچھ نہیں کہا ہوگا جو اسلام دُنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہے۔اسی طرح اگر کسی سوشلسٹ یا بالشوسٹ نے کوئی تعلیم دنیا کی بہتری کی پیش کی ہوگی جسے پڑھ کر تم کہتے ہو یہی اسلام بھی پیش کرتا ہے، تو یہ بالکل جھوٹ ہوگا کیونکہ اس کی جُزئیات اتنی ناقص ، اتنی گندی ، اتنی خراب ، اور اتنی نا معقول ہوں گی کہ اگر دُنیا اُن پر عمل کرے تو تباہ ہو جائے۔خالی منہ سے مترادف الفاظ دُہرا دینے سے کچھ نہیں بنتا۔کیا سارے مذہب والے یہ نہیں کہتے کہ سچ بولو؟ مگر کیا پھر سچ کی تعریف میں اختلاف نہیں؟ کیا تمام مذاہب والے یہ نہیں کہتے کہ توحید کا عقیدہ اختیار کرنا چاہئے؟ مگر کیا اُن کی تو حید اور اسلام کی توحید ایک ہی ہے؟ کیا عیسائی منہ سے توحید کے قائل نہیں یا آریہ منہ سے تو حید کے قائل نہیں ؟ یہ سب تو حید کے قائل ہیں۔مگر اسلامی توحید سے ان کی توحید کا عقیدہ ملتا ہے؟ پس لفظوں سے فریب نہ کھاؤ اور یقیناً سمجھو کہ اسلام نہ کیپٹل ازم قائم کرنا چاہتا ہے نہ سوشلزم نہ بالشوازم قائم کرنا چاہتا ہے نہ فاسزم یا نائسزم بلکہ اسلام ایک نئی چیز دُنیا میں قائم کرنا چاہتا ہے۔ایسی چیز جو دنیا کی نگاہوں سے اس وقت اوجھل ہے اور مکنون ہے۔وہ بے شک قرآن مجید میں پائی جاتی ہے لیکن قرآن مجید سے اس تعلیم کو معلوم کرنا ہر ایک کا کام نہیں۔اور موجودہ زمانہ میں خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس لئے بھیجا ہے کہ تا آپ اس کتاب مکنون کو ظاہر کریں۔پس اس تعلیم کو دُنیا میں پھیلانے اور اس کے مطابق عالم کا نقشہ بدلنے کے لئے ہمیں ایک ایک مرحلہ اور ایک ایک قدم پر اس طرح جنگ کرنا پڑے گی جس طرح آجکل سپین میں جنگ ہو رہی ہے کہ بعض بلڈنگز کو فتح کرنے پر ہی کئی کئی دن لگ