خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 139 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 139

خطابات شوری جلد دوم ۱۳۹ مشاورت ۱۹۳۷ء پہاڑ کی اُترائی اچھی ہے یا چڑھائی؟ تو وہ کہنے لگا ہر دو لعنت۔ان میں سے بعض بے وقوف بھی یورپ کی سوشلزم کی کتابیں پڑھتے اور انہیں پڑھ کر کہتے ہیں غرباء کے متعلق اُن میں جو نظریہ پیش کیا گیا ہے یہ بالکل اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے حالانکہ اسلام کی تعلیم اور اُن کی تعلیم میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔پھر ان میں سے دوسرے بیوقوف جو امراء کے نکتہ نگاہ کے حامی ہوتے ہیں جب کیپٹل ازم ( یعنی استکنار مال) کے متعلق یورپین نظریہ دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ بالکل ٹھیک ہے یہ اسلام کی تعلیم کے مطابق ہے حالانکہ یہ بھی جھوٹ ہوتا ہے۔غرض یورپ کی دونوں تعلیمیں غلط ہیں اور اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔اسلام کی تعلیم بالکل جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔اگر یورپ کے فلاسفر اس تعلیم کو اپنی عقلوں سے سمجھ سکتے تو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت اور قرآن مجید کے نازل کرنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اسلام تو تعلیمات کا ایک وسیع سلسلہ ہے جس کی جزئیات سے بھی یورپین لوگ واقف نہیں۔یورپ میں طلاق کا رواج مثلاً دیکھ لو یورپ میں طلاق کا مسئلہ رائج ہو گیا لیکن کیا یہ وہی طلاق ہے جس کی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تعلیم دی۔اگر کوئی شخص غور کرے تو اُسے معلوم ہو گا کہ گو نام کے لحاظ سے یہ طلاق ہے اور اسلام کے پیش کردہ مسئلہ سے اس کا نام ملتا ہے لیکن تفصیلات بالکل اور ہیں۔اور اب جو یورپ میں طلاق کا رواج ہے اس کی کوئی حد بندی ہی نہیں رہی۔ایسی ایسی تمسخر آمیز طلاقوں کی وارداتیں ہوتی ہیں کہ سُن کر حیرت آتی ہے اور انسان کہتا ہے کہ یہ لوگ پاگل ہو گئے ہیں۔ٹائمنر آف لنڈن میں ایک دفعہ میں نے پڑھا کہ ایک ایسی عورت کی وفات ہوئی ہے جو ۱۷ خاوند کر چکی تھی اور گیارہ زندہ خاوند اُس کے جنازے میں شامل تھے۔اُن خاوندوں سے جو طلاق کی وجوہ لکھی تھیں وہ بھی عجیب و غریب تھیں۔ایک خاوند سے تو اُس نے اس لئے طلاق لی کہ اُسے شکوہ تھا کہ جب وہ گھر میں آتا ہے تو مجھے بوسہ نہیں دیتا۔عدالت میں مقدمہ گیا اور عدالت نے تسلیم کیا کہ واقعہ میں یہ بہت بڑا ظلم ہے اور اب دونوں کا نباہ مشکل ہے، طلاق ہو جانی چاہئے۔پھر ایک اور خاوند سے طلاق لینے کی وجہ یہ لکھی تھی کہ اس عورت نے کہا میں نے ایک ناول لکھا ہے اور میرا خاوند اسے چھپوانے کی