خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 132
خطابات شوری جلد دوم ۱۳۲ مشاورت ۱۹۳۷ء چاہتا ہوں کہ جب تک ہم اس امر کو پوری طرح ذہن نشین نہ کر لیں کہ کس کام اور کس غرض کے لئے ہم یہاں جمع ہوتے ہیں، اُس وقت تک ہم اپنے کام کو کبھی صحیح طور پر بجا نہیں لا سکتے۔میں نے جہاں تک جماعت کے حالات کا مطالعہ کیا ہے، میں افسوس کے ساتھ اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ ابھی ہماری جماعت کا بیشتر حصہ ایسا ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے مقصد کو نہیں سمجھا اور نہ وہ جماعت کی اہمیت اور اُس کے مقام سے واقف ہے۔اگر ہم لوگ اس مقصد کو سمجھ جاتے تو یقیناً ہمارے اعمال اور افعال ایک نئے رنگ میں ڈھل جاتے اور اُن کے نتائج بھی موجودہ نتائج سے بہت شاندار نکلتے۔جہاں تک میں نے سمجھا ہے ابھی تک بیشتر حصہ ہم میں ایسے لوگوں کا موجود ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے ہماری ہدایت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا، ہم آپ پر ایمان لائے اور ہمیں ہدایت حاصل ہوگئی اور جب ہدایت حاصل ہوگئی تو وہ سمجھتے ہیں کہ جو ہماری غرض تھی وہ پوری ہو گئی اور جس مقصد کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام مبعوث فرمائے گئے تھے ، وہ بھی حاصل ہو گیا حالانکہ اللہ تعالیٰ کے مامور افراد کی ہدایت کے لئے نہیں آتے بلکہ وہ قوموں میں تغیرات پیدا کرنے کے لئے آتے ہیں۔دُنیا میں جب معمولی معمولی بادشاہوں کے رد و بدل سے ایسے تغیرات پیدا ہو جاتے ہیں کہ اُن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہوتا ہے تو خدائی بادشاہوں کی آمد اور اُن کے قیام سے دُنیا میں بھلا کیا کچھ تغیر پیدا نہ ہوگا۔ملکہ سبا جو ایک عورت تھی ، میں اُس کی عقل کو جب دیکھتا ہوں اور اُس کے مقابلہ میں آپ لوگوں میں سے بعض کی عقل کو دیکھتا ہوں تو حیرت آ جاتی ہے کہ کیونکر اس عورت کی عقل وہاں تک پہنچ گئی تھی جہاں آپ لوگوں میں سے بعض کی عقل ابھی تک نہیں پہنچی۔جب حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کا خط اُسے ملا تو اُس نے اپنی سلطنت کے اکابر سے مشورہ لیا۔اُن سب نے کہا کہ ہم ملک کی خدمت کے لئے تیار اور لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں ، آپ جو حکم دینا چاہتی ہیں دیں۔تو اُس نے جواب دیا کہ ہماری موت سے ملک کو کیا فائدہ پہنچے گا۔دیکھنا صرف یہ نہیں کہ لوگ جنگ کے لئے آمادہ ہیں یا نہیں، بلکہ دیکھنا یہ ہے کہ ہماری موت ہمیں کوئی نفع پہنچائے گی یا نہیں؟ اگر ہم زندہ رہیں اور سلیمان کی بادشاہت قبول کر لیں تو یہ زیادہ مفید ہو گا یا یہ زیادہ مفید ہو گا کہ ہم لڑیں اور مر جائیں اور سلیمان