خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 128
خطابات شوری جلد دوئم مالی حالت بھی درست ہو جائے گی۔۱۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء دوسری چیز جس کی طرف میں توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جماعت اس خیال کو نکال دے کہ ہم افراد کے ذریعہ کام کر سکتے ہیں۔اخلاص والے مومنوں کے ذریعہ کام ہوتا ہے افراد کی کثرت سے نہیں ہوتا۔مگر اب تک یہ بات چلی جاتی ہے کہ منافقوں کو پناہ دی جاتی ہے اور اس کا نام رحمہ لی رکھا جاتا ہے۔مگر کیا یہ ہوسکتا ہے کہ آپ کے بچہ کو کوئی مار رہا ہو اور کوئی اُسے منع کرے تو آپ کہیں نہ روکو، اس کا دل میلا ہوگا ؟ اگر تم یہ نہیں کر سکتے تو میں کس طرح مان لوں کہ جو شخص دین کو تباہ کرنے کے لئے کھڑا ہوا سے جب اس سے روکا جائے تو یہ کہنا درست ہو سکتا ہے کہ اسے کچھ نہ کہو، اس کا دل میلا ہوگا ؟ یہ حصہ ایسا ہے کہ جماعت کو اس کی طرف بہت توجہ کرنے کی ضرورت ہے۔قادیان میں بھی اور باہر بھی احباب اس حصہ کی اصلاح کریں یا اسے نکال دیں۔ایسا حصہ اگر قادیان میں ہی نہ ہو تو مالی مشکلات اس طرح پیش نہ آئیں جس طرح اب آ رہی ہیں۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ۳۵ ۱۹۳۴ء کا چندہ ۳۴ ۱۹۳۳ء سے ڈیڑھ ہزار زیادہ تھا اور ۳۶۔۱۹۳۵ء کا چندہ ۳۵ - ۱۹۳۴ء سے چار ہزار زیادہ ہے اور ۳۷۔۱۹۳۶ء کے چھ ماہ کا چندہ ۳۶۔۱۹۳۵ء کے چندہ سے تین ہزار زیادہ ہے۔اس طرح اُن کا جھوٹ ثابت ہو گیا جنہوں نے یہاں رہتے ہوئے اس قسم کی باتیں کیں کہ چونکہ تحریک جدید کا چندہ لیا جاتا ہے اس لئے چندہ کم آتا ہے۔یہ ان کا جھوٹ تھا اور ان کی منافقت کی علامت۔ایک شخص کو جھوٹا قرار دینے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی بات آگے کہہ دے مگر یہاں تو شنی ہوئی بات بھی نہیں ہے مگر جماعت کے لوگ ان چیزوں پر پردہ ڈالتے اور کہتے ہیں یہ مخلص لوگ ہیں ، ان کو غلط فہمی ہوئی۔اس طرح وہ زہر پھیلتا جاتا ہے۔اب بعض کے متعلق ایسے مصالحہ جمع ہو گئے ہیں کہ میں اُن کو قریب میں جماعت سے خارج کرنے والا ہوں۔جب اِن کا اخراج ہوگا تو دوسروں کو پتہ لگے گا کہ ان کو کیسے مخلص سمجھتے تھے۔انہوں نے ان سے اپنی دوستیاں نبا ہیں مگر خدا تعالیٰ کے سلسلہ سے نہ نباہی۔ایسے لوگ قادیان سے باہر بھی ہیں اور قادیان میں بھی۔ہمارا کام ہے کہ ان کو گرفت کریں ، ان کی اصلاح کریں اور اگر وہ نا قابل اصلاح ہوں تو ان کو نکال دیں۔