خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 102 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 102

خطابات شوری جلد دوئم ۱۰۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء کے لئے اُسی وقت تیار ہوں گا جب ایسے دلائل پیش کئے جائیں جن سے یہ ثابت ہو کہ یہ کام اسلام اور سلسلہ کے لئے مُصر ہے، صرف اس لئے اس پر غور کرنے کے لئے تیار نہ ہوں گا کہ سلسلہ پر اس کی وجہ سے مالی بوجھ پڑتا ہے کیونکہ اگر مالی بوجھ ہلکا کرنا مدنظر ہو تو پھر سارے کام بند کر دینے سے زیادہ آسانی اور سہولت ہو جائے گی جس طرح باقی مسلمان اس قسم کے بوجھ سے آزاد ہیں، نہ وہ ایسے کام کرتے ہیں اور نہ انہوں نے ان کے کرنے کی ذمہ داری اُٹھائی ہے، اسی طرح اگر ہم بھی کریں تو ہر شخص کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ ایک دو کام بند کرنے کی نسبت تمام کام بند کر دینے سے زیادہ آسانی اور سہولت حاصل ہو جائے گی۔پس اگر کام ہی بند کرنے ہیں تو پھر مجلس شوری کے منعقد کرنے اور مشورہ لینے کی ضرورت ہی نہیں۔سب کام بند کئے اور اپنے اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھ رہے۔لیکن اگر ہماری زندگی کا مقصد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کریں تو پھر ہمارا نقطہ نگاہ یہ نہیں ہوسکتا کہ فلاں کام بند کرنے سے اتنی بچت ہو سکتی ہے بلکہ یہ ہونا چاہئے کہ جس کام کے کرنے کا ہم نے ذمہ لیا ہے اُس کے خرچ کے لئے کیا طریق اختیار کریں۔شاید بعض لوگ کہیں کہ اور بھی کئی کام مفید ہیں۔اگر ہمارا نقطہ نگاہ یہی ہے تو پھر ہمیں اُن کو بھی جاری کر دینا چاہئے میں اس بات کو وزن دینے کے لئے تیار ہوں مگر میرا نقطہ نگاہ پھر بھی نہیں بدل سکتا کیونکہ کوئی کام شروع کر کے بند کر دینا اور بات ہے اور شروع ہی نہ کرنا اور بات۔مثلاً ہمیں اختیار ہے کہ دشمن جس سے جنگ کرنا جائز ہو جنگ کا سامان تیار کرنے کے لئے اُس سے جنگ کا اعلان کرنے میں توقف کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اس کی مثال موجود ہے۔دشمنوں نے ایسی حرکات کیں جن کی وجہ سے ان کے خلاف اعلانِ جنگ کرنا جائز ہو گیا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اعلانِ جنگ نہ کیا اور اس کے کرنے میں دیر کی مگر آپ کی زندگی سے ہی یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ لڑائی شروع کرنے کے بعد پھر اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔کوئی اس کا نام حماقت رکھے یا عدم تدبر رکھے مگر حقیقت یہ ہے کہ جس جنگ کو شروع کر دیا جائے اُس سے پیچھے ہٹنا جائز نہیں ہے۔بے شک ایک دو مثالیں ایسی ہیں جن کے متعلق کہا جا سکتا ہے کہ ان میں