خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 101 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 101

خطابات شوری جلد دوئم 1+1 مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء ان چاروں باتوں کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں سے تین کا جواب تو نمائندوں نے دینا ہے اور ایک کا جواب سلسلہ کے مرکزی دفاتر کے کارکنوں اور نمائندوں نے مل کر دینا ہے۔حسب دستور پہلے میں اس بارہ میں ایک سب کمیٹی یا ایک سے زیادہ سب کمیٹیاں بناؤں گا جو ان مسائل پر الگ غور کر لیں ، پھر عام اجلاس میں ان پر غور کر لیا جاوے گا۔یہ امر کہ ایک کمیٹی مقرر کی جائے یا کئی اس کے متعلق بعد میں مشورہ لوں گا۔پہلے میں بعض باتیں دوستوں سے کہنا چاہتا ہوں تا کہ جو سب کمیٹی کے ممبر ہوں وہ ان کو مدنظر رکھ کر غور کریں۔پہلی چیز میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ گومشورہ دینے والوں کو اختیار ہے کہ جو چاہیں مشورہ دیں اور مشورہ لینے والے کی مرضی ہے کہ جو مشورہ چاہے قبول کرے۔تاہم بعض باتیں ایسی ہیں جن میں وقت صرف کرنا مفید نہیں ہو گا۔مثلاً چوتھا امر یہ ہے کہ وہ مالی تنگی جس میں سے جماعت گزر رہی ہے اس کے کیا علاج ہو سکتے ہیں؟ اس کے متعلق میں بیان کرنا چاہتا ہوں کہ میری کیا رائے ہے اور جو مشورہ اس کے متعلق دیا جائے گا اس پر کس نقطہ نگاہ سے غور کروں گا۔میں یہ بات پہلے بھی کہہ چکا ہوں اور اب بھی وضاحت کے ساتھ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ میں اس یقین پر قائم ہوں کہ جب تک یہ معلوم نہ ہو کہ فلاں کام مُصر ہے اُس وقت تک اس کام کو جسے جاری کیا جا چکا ہے بند کرنا میرے نقطہ نگاہ سے درست نہیں۔میں اس بات پر غور کرنے کے لئے تیار ہوں اگر یہ کہا جائے کہ فلاں فلاں کام بند کر دیئے جائیں مگر اُس وقت جب کہ یہ ثابت کر دیا جائے کہ ان کا چلانا سلسلہ کے لئے مہنر ہے میں مشورہ کا دروازہ اس بارے میں بند نہیں کرتا اگر کوئی صاحب اس کے متعلق مشورہ دینا چاہیں۔مثلاً اگر یہ کہا جائے کہ سکول بند کر دیئے جائیں تو میں اس مشورہ کو سننے کے لئے تیار ہوں مگر قبل از وقت بتا دیتا ہوں کہ اسے ماننے کے لئے تیار نہ ہوں گا جب تک یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ سکولوں کا جاری رہنا سلسلہ کے لئے مھر ہے۔یا مثلاً یہ کہا جائے کہ ولایت کا مشن بند کر دینا چاہئے ، میں اس بات کو سننے کے لئے تیار ہوں مگر اس پر عمل کرنے بلکہ اس پر غور کرنے