خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 92 of 755

خطاباتِ شورٰی (جلد دوم ۔1936ء تا 1943ء) — Page 92

خطابات شوری جلد دوم ۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۶ء بلکہ بڑے کاموں کا ذریعہ ہوتی ہے۔اس میں یہ مقصود نہیں کہ دنیا کھیل ہے اسے چھوڑ دو۔بلکہ یہ مقصد ہے کہ دنیا میں اس حد تک مشغول ہو جس حد تک ورزشوں میں مشغول ہونا جائز ہے۔۱۵،۱۴ سال کا عرصہ گزرا میں نے خواب میں دیکھا کہ میں اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب اور ایک اور شخص ایک جگہ بیٹھے ہیں۔وہ تیسرا شخص اب یاد نہیں رہا کہ چوہدری صاحب پر یا مجھ پر یا اور کسی تیسرے شخص پر اعتراض کرتا ہے کہ وہ ورزش کیوں کرتا ہے؟ اس طرح تو وقت ضائع ہوتا ہے۔اس پر میں اُسے جواب دیتا ہوں کہ بعض خدا تعالیٰ کے بندے ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے ورزش ضروری ہوتی ہے ورنہ دین کو نقصان پہنچتا ہے اور اگر وہ ورزش نہ کریں تو گنہگار ہوں۔اُس وقت میرے دل میں خیال گزرتا ہے کہ میں بھی تو ورزش میں سُستی کر جاتا ہوں اور یہ نہیں چاہئے۔غرض ورزش ضروری ہے لیکن ایک حد تک۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے بھی موگریاں رکھی ہوئی تھیں۔آپ سیر کے لئے بھی با قاعدہ جایا کرتے تھے۔تو لعب کلی طور پر منع نہیں صرف اس پر ایک حد بندی ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ دنیا کی طرف توجہ بھی منع نہیں لیکن لعب کی حدود کے اندر اس میں مشغول ہونا چاہئے اور اسے اصل مقصود نہیں قرار دینا چاہئے۔اصل مقصود دین ہے۔دوسری تشبیہہ دنیا کولہو سے دی ہے۔اس میں غفلت پائی جاتی ہے۔انسان چاہتا ہے آرام ملے۔جیسے نیند ہے، مرد و عورت کے تعلقات ہیں، بچوں اور بیوی کی محبت ہے، یہ امور بھی جائز ہیں مگر جو شخص رات دن ان کاموں میں لگا ر ہے عیاش کہلاتا ہے۔اسی طرح جو شخص دین کو چھوڑ کر دُنیا میں لگ جائے عیاش کہلائے گا۔وان تُؤْمِنُوا وَتَتَّقُوا يُؤْتِكُمْ أُجُورَكُمْ و لا يَسْتَلكُمُ آسوا لكم۔اگر تم اس طرح کرو گے تو انعام ملے گا۔اللہ تم سے اموال نہیں مانگتا بلکہ تجارت کے طور پر معاملہ کرتا ہے۔ان يَسْتَلْكُمُوهَا فَيُحْفَكُمْ تَبْخَلُوا و يُخرج اصْفاً نَكُمْ۔اگر وہ اصرار سے تمہارے مال مانگے تو بے شک تم نخل کرنے لگ جاؤ گے اور اس طرح وہ تمہارے اندرونی گندوں کو ظاہر کر دے گا لیکن وہ ایسا نہیں کرتا بلکہ تم کو اصلاح کا موقع دیتا ہے - هانتُم هَؤُلَاءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللہ۔فرمایا تم وہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے بلایا جاتا ہے۔فمنكُمْ من يَبْخَلُ وَ مَن يَبْخَلُ فَإِنَّمَا يَبْخَلُ عَن نَّفْیس۔پھر بھی تم میں سے بعض لوگ بجل