خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 51
خطابات شوری جلد اوّل ۵۱ مشاورت ۱۹۲۳ء اثر ہوتا ہے لیکن رائے دینے میں تکرار دلائل سے احتراز کریں۔(۱۴) یہ خیال کہ مکمل طریق پر کام ہو غلط ہے بعض باتیں رہ جاتی ہیں اس لئے ہمیشہ اُن باتوں کو لینا چاہیئے جین کا بیان کرنا ضروری ہے۔یہ چودہ نصیحتیں ہیں۔اب پچھلے سال جو تجاویز پیش ہو کر منظور کی گئی تھیں متعلقہ ناظر صاحبان اپنی رپورٹ سنائیں گے۔اس کے بعد نمائندوں کا حق ہوگا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ فلاں فلاں باتیں جو منظور ہوئی تھیں اُن کے متعلق کیا کارروائی کی گئی ؟ یا رپورٹوں میں جو غلطی رہ گئی ہو اُس کی توضیح کرا سکتے ہیں۔اور پھر اس دفعہ جو باتیں قابلِ غورمجلس مشاورت کے سامنے ہیں ان کے متعلق بھی کمیٹیاں بنائی جائیں گی جو سکیم بنا کر پیش کریں گی اور وہ عام اجلاس نمائندگان میں پیش کریں گی۔بولنے کے متعلق یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ جو پہلے کھڑا ہو وہ پہلے بولے گا پھر دوسرا۔اسی طرح ترتیب کے ساتھ ایک شخص کو مقرر کر دیا جائے گا کہ وہ دیکھتا رہے گا کہ کون پہلے کھڑا ہوتا ہے اُسی کو اجازت پہلے بولنے کی ملے گی دوسرے کو بعد میں۔اگر ایک ساتھ دو شخص کھڑے ہوں تو جس کو وہ کہے وہ بولے گا۔یا اگر کوئی شخص پہلے کھڑا ہو مگر اُس پر نگران کی نظر نہ پڑے بلکہ وہ بعد میں کھڑے ہونے والے کو پہلے خیال کرے تو ہمیں اُس کی نظر کی اتباع کرنی ہوگی کیونکہ وہ انسان ہے اور انسان ایک جیسا ہر وقت ہر طرف نہیں دیکھ سکتا۔دو دفعہ سے زیادہ کسی شخص کو بولنے کی اجازت نہ ہوگی کیونکہ دو دفعہ میں ایک شخص اپنا مطلب بیان کرسکتا ہے اور سننے والے اُس کے مافی الضمیر کو سمجھ سکتے ہیں۔اس کے بعد میں تجاویز پیش کرتا ہوں مگر قبل اس کے کہ میں امور مشورہ طلب پیش کروں پچھلے سال کی دو باتوں کی تشریح کرتا ہوں۔اول پچھلے سال ہم نے فیصلہ کیا تھا کہ مرکزی خزانہ کے بوجھ کو دور کرنے کے لئے چندہ خاص کیا جائے۔اس تحریک پر جو چندہ ہوا الْحَمْدُ لِلہ اس سے بہت سا بوجھ دور ہو گیا۔مگر بعض جماعتوں کے ذمہ چندہ خاص باقی ہے ہم ان سے وہ چندہ ضرور لیں گے اور سو کی بجائے ایک سو پچیس لیں گے اس لئے چاہئے کہ جس قدر جلد ہو وہ یہ رقم دیں۔دوسری بات میں یہ پیش کرنا چاہتا ہوں کہ اس سال سلسلہ کی عورتوں میں دین کی