خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 646 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 646

خطابات شوریٰ جلد اوّل ۶۴۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء گیا ہے اور اسمعیل بھی۔آپ کو غم تھا اور آپ نے دُعائیں کیں۔آپ نے جب یہ کہا کہ صد حسین است در گریبانم تو اس کا مطلب یہ تھا کہ آپ کی جماعت حسین بننے والی ہے۔تب آپ نے دُعا کی اور آپ کو بتایا گیا کہ آپ کی جماعت حسین بنے گی مگر ہم اسمعیل بنا کر بچالیں گے۔میں اُمید کرتا ہوں کہ دوست اپنی ذمہ داری کو سمجھیں گے اور دوسروں کو سمجھائیں گے کہ اس سال کے ہی نہیں بلکہ اس سے پہلے کے بھی تمام بقائے صاف کر دیئے جائیں اور مجھے اُمید ہے کہ دین کی تبلیغ کے لئے بھی اپنے آپ کو وقف کر کے ”دست در کار و دل بایار کی مثال پیش کریں گے۔زمیندار کا ہاتھ ہل پر ہو مگر دماغ میں یہ چکر چل رہا ہو کہ اسلام کو غالب کر کے رہیں گے۔دفتروں میں کام کرنے والوں کی قلمیں کا غذات کالے کر رہی ہوں مگر اُن کے دل میں یہی ہو کہ خدا تعالیٰ کے دفتر میں اُن کے نام لکھے جائیں۔تجارت والے اپنا بہی کھاتا لکھ رہے ہوں مگر اُن کی توجہ اس طرف ہو کہ خدا تعالیٰ کے کھاتہ میں ان کا حساب لکھا جائے۔ہم یہ سارے کام کرتے جائیں گے جب تک یہ آواز نہیں آتی کہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر نکل آؤ۔جب ہم سچے دل سے ارادہ کرلیں گے تو خدا تعالیٰ ہمیں ضرور کامیاب کرے گا۔خدا تعالیٰ شکور ہے۔بندہ اگر اس کی طرف چل کر جاتا ہے تو وہ اس کی طرف دوڑ کر آتا ہے۔اس کے بعد میں دُعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنی راہ میں کام کرنے کی توفیق عطا کرے اور محض اپنے فضل سے کامیابی بخشے۔“ ال عمران: ۸۰ (مطبوعہ رپورٹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء) مسلم كتاب الجهاد باب غزوة حنين السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۲۳۰ تا ۲۳۲ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء السيرة الحلبية جلد ۲ صفحہ ۱۶۰ مطبوعہ مصر ۱۹۳۵ء ه بخاری کتاب الرقاق - باب يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا (الخ) ل مجانى الادب جزء ثانی صفحه ۴۳ مطبوعہ بیروت۔