خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 642
خطابات شوری جلد اوّل ۶۴۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء کرنے میں بڑے مشہور ہیں مگر ان میں ہماری جماعت کے مقابلہ میں ۱۰ را حصہ بھی قربانی نہیں پائی جاتی لیکن سکھ عام طور پر کر پان لگائے پھرتے ہیں اور ہمارے آدمی سوٹا رکھنے کے بھی عادی نہیں۔ان میں اطاعت کی کمی نہیں مگر یہ بات یاد نہیں رہتی۔اگر یاد دلایا جاتا تو اس وقت تک کوئی احمدی ایسا نہ ہوتا جو اپنے ہاتھ میں سوٹا نہ رکھتا۔تو دُہرانے سے بات یاد آ جاتی ہے۔اسی طرح جب تحریک کی جائے کہ چندہ با قاعدہ ادا کیا جائے اور اس پر خطبہ پڑھا جائے اور پھر یہاں سے رپورٹ کی جائے کہ اتنا قرضہ ہے تو اس سے جماعت میں بیداری پیدا ہوگی۔اس کے بعد میں دوستوں کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارے سامنے ایک بہت بڑی مصیبت ہے مگر اس میں بھی دوستوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے اور وہ یہ کہ اس مصیبت کو ہی ترقی کا ذریعہ بنا سکتے ہیں۔موجودہ ابتلاء ایسا ہی ہے جیسے طوفان یا آندھی آجاتی ہے۔ہمیں لوگ پیس کر رکھ دینا چاہتے ہیں مگر میں سمجھتا ہوں یہ طوفان بھی ترقی کا موجب بن سکتا ہے۔طوفان کیا کرتا ہے یہ کہ جو سر بلند چوٹیاں ہوتی ہیں انہیں نیچے گرا دیتا ہے اور جو پسا ہوا غبار ہوتا ہے اُسے آسمان کی طرف چڑھا دیتا ہے۔پس آؤ ہم وہ طریق اختیار کریں کہ اپنے آپ کو پیس کر خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر دیں کہ لے یہ غبار اور اس طرح سر بلندی حاصل کریں۔مگر وہ طوفان جو غبار کو اونچا اُٹھا لیتا ہے وہ گر ا بھی سکتا ہے اگر ہم تکبر اور خود پسندی سے کھڑے ہوں گے تو ضرور گریں گے اور اسی بات کا مجھے سب سے زیادہ خطرہ ہے اور ہمارے رستہ میں یہی روک ہے۔معاندین قادیان میں ہر قسم کی شرارتیں کرتے اور ایذائیں پہنچاتے ہیں۔اس سے مجھے یہ ڈر نہیں کہ وہ ہمیں مٹادیں گے بلکہ یہی ڈر رہتا ہے کہ اُن کی اشتعال انگیزیوں کی وجہ سے کوئی نوجوان لڑ نہ پڑے۔مجھے یہ ڈر نہیں کہ وہ ہمیں مارتے ہیں بلکہ یہ ڈر ہے کہ ہمارا کوئی آدمی ان کے اشتعال دلانے پر ان کو نہ مار بیٹھے۔اگر مجھے یہ اطمینان حاصل ہو جائے کہ ہماری جماعت کا کوئی آدمی کسی حالت میں بھی قانون شکنی نہیں کرے گا تو ہم مخالفین کی تمام شرارتوں کے باوجود بے فکر ہو کر کام میں لگ جائیں۔پس مجھ پر یہ بوجھ نہیں کہ احرار ہمارے آدمیوں کو مارتے ہیں بلکہ یہ بوجھ ہے کہ جب وہ مارنے لگیں تو ہمارا کوئی آدمی بھی نہ مار بیٹھے۔میں وثوق سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہمیں ضرور کامیاب