خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 636
خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء آپ کے لئے مشکل نہ رہتی۔اسی طرح سارا دن آپ مخالفین کی طرف سے گالیاں سنتے مگر جب سوتے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہام ہوتا کہ خدا کی فوجیں تمہاری امداد کے لئے آ رہی ہیں۔اس طرح آپ کو وہ قوت حاصل ہو جاتی جو اور کسی طرح ممکن ہی نہیں کہ حاصل ہو سکے۔باقی یہ امر غلط ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وقت جو وصیتیں ہوتی تھیں اُنہیں آپ دیکھا کرتے تھے۔قواعد دیکھ لینا اور بات ہے ورنہ آپ کو اتنی فرصت نہ تھی کہ خود ہر وصیت کو دیکھتے اگر چہ آپ امید رکھتے تھے کہ وصیت کرنے والے اخلاص سے وصیت کریں گے مگر ایسے بھی ہو سکتے تھے جو صحیح رنگ میں وصیت نہ کریں۔میں سمجھتا ہوں وہ امور جن پر روشنی ڈالنی ضروری تھی وہ میں نے بیان کر دیئے ہیں اور کثرتِ رائے کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے اور میری بھی یہی رائے ہے۔ایسے موقع پر یہ سوال بنا لینا غلط طریق ہے کہ یہ بات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ہے یا نص کے خلاف ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی اولاد کو وصیت کرنے سے مستثنیٰ قرار دیا ہے لیکن میں یہاں تک احتیاط کرتا ہوں کہ قرض لے کر بھی اگر کوئی رقم خرچ کروں تو اُس میں سے دس فیصدی چندہ دیتا ہوں۔کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا شکرانہ کے طور پر میں دیتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے بغیر وصیت کے مقبرہ بہشتی میں دفن ہونے کا موقع دیا۔پس وہ جو یہ کہتے تھے کہ جائداد اور آمد دونوں کی وصیت ہونی چاہئے وہ خود بھی وصیت کرنے والے تھے۔پھر گفتگو میں یہ رنگ اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی اور دوسری طرف سے بھی اتنا زور نہیں دینا چاہئے تھا کہ نص صریح کے خلاف ہے۔وہ اسے علمی مسئلہ تک رکھتے۔سب کمیٹی کی یہ تجویز کہ:- "جو شخص وصیت کرے اسے اپنی ہر قسم کی آمد کی بھی وصیت کرنی چاہئے۔اور یہ قاعدہ پہلی وصیتوں پر بھی حاوی ہوگا۔مگر اس قاعدہ کی رو سے پہلے کی وصیتوں پر گزشتہ بقایا کا مطالبہ قائم نہ ہو گا کیونکہ اس کا ادا کرنا مشکل ہو گا۔“ یہ تجویز اتنی واضح ہے کہ اکثر دوست اس سے متفق ہوں گے۔پس میں کثرت کے ساتھ یا تمام کے ساتھ اتفاق کرتا ہوا اسے منظور کرتا ہوں۔“