خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 635 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 635

خطابات شوری جلد اوّل ۶۳۵ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء میں سپرٹ اور الفاظ دونوں پر زور دینا چاہئے اور یہ بات مدنظر رہنی چاہئے کہ جس پہلو پر بھی ہاتھ ڈالیں خشیت اللہ سے کانپتے ہوئے ڈالیں۔ہمارے ایک دوست نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ انبیاء کے زمانہ میں مصائب زیادہ ہوتے ہیں پھر بعد میں کون سا زمانہ ایسا آسکتا ہے جب قربانی زیادہ کرنی پڑے مگر یہ قاعدہ گلیہ نہیں ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس کے مثیل تھے یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کے، اُن کے زمانہ میں اُن کے ماننے والوں پر وہ مصائب نہیں آئے جو بعد میں آئے۔حضرت مسیح علیہ السلام کو مارا پیٹا گیا مگر اُن کو قتل نہیں کیا گیا مگر اُن کے بعد دوسو سال تک حضرت مسیح علیہ السلام کے ماننے والوں کو سالہا سال تک غاروں کے اندر رہنا پڑا جہاں روشنی تک کا گزر نہیں ہوتا تھا۔میں نے وہ غاریں دیکھی ہیں اور اس دوست نے بھی دیکھی ہیں انہوں نے ہی وہاں سے واپس آنے کے لئے اس لئے کہا تھا کہ دل کا نپتا ہے۔سو سو فٹ بلکہ اس سے بھی زیادہ گہری زمین کے اندر غاریں تھیں جن میں سے پانی رستا تھا اور سیدھا کھڑا نہیں ہوا جاتا تھا ان میں لمبے عرصہ تک وہ لوگ رہے۔وہاں ہی ان کی قبریں بنی ہوئی ہیں۔پولیس وہاں بھی جا پہنچی اور ان کو قتل کر دیا گیا۔یہ مصائب حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے وقت کہاں تھے۔جب کسی قوم کے پاس تلوار ہوتی ہے تو پہلے ہی مقابلہ شروع ہو جاتا ہے مگر جب تلوار نہ ہو تو پہلے لوگ انبیاء کے ماننے والوں پر ہنستے ہیں لیکن جب ان کی تعداد بڑھنے لگتی ہے تو دشمن ان پر ظلم کرنا شروع کر دیتا ہے۔اب احراری جو ہماری مخالفت کر رہے ہیں تو کیا اس لئے کہ اب ہم نے کوئی نیا مسئلہ ایجاد کر لیا ہے؟ نہیں بلکہ ان کو یہ فکر پڑ گئی ہے کہ جس بات میں بھی احمدی دخل دیتے ہیں اُس میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔پہلے لوگ ہمارے متعلق کہتے تھے کہ ان کی حقیقت ہی کیا ہے اور ان کی کون سنتا ہے مگر اب سمجھتے ہیں کہ لوگ ہماری باتیں سننے لگے ہیں اور اسی بات کا انہیں غصہ ہے۔یہ حالات بتا رہے ہیں کہ ہمارے اوپر بھی بہت سی مشکلات آنے والی ہیں۔ان سے بھی زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے زمانہ میں پیش آئیں۔آپ کی تکالیف کو اس لحاظ سے ہم بڑا کہہ سکتے ہیں کہ آپ اُس وقت اکیلے تھے مگر ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو الہام ہوتے وہ ان تکالیف کا ازالہ کر دیتے۔جب آپ کو یہ الہام ہوتا کہ خدا تمہارے ساتھ ہے تو کوئی مشکل