خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 629 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 629

خطابات شوری جلد اوّل جیسا کہ انہوں نے کہا بھی۔۶۲۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء میں یہ مانتا ہوں کہ بعض کمزور ہیں ، بعض معذور ہیں اور زمینداروں میں بھی ایسے لوگ ہیں مگر ان کی وجہ سے مخلصین کی کیوں ہتک کی جائے۔جو یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنی ہر ایک چیز اسلام کے لئے دینے کو تیار ہیں۔ہمارے لئے یہ وقت اس قسم کے سوالات کا نہیں ہے۔ایک ایسا وقت ہوتا ہے جب کہ ایک فریق دوسرے سے کہہ سکتا ہے کہ ہم تم سے یہ رعایت کرتے ہیں۔ہو سکتا تھا کہ ملازمت پیشہ احباب زمینداروں سے یہ کہتے کہ تمہارے لئے مشکل کا وقت ہے تم ۱/۱۶ کی بجائے ۱/۲۰ دو اور ہم ۱/۱۶ کی بجائے ۱/۱۲ دیں گے، یہ بھی ایک صورت تھی اور دوسرے کہتے کہ خواہ ہمیں کتنی مشکلات درپیش ہوں ہم ۱٫۱۶ ہی دیں گے اور اگر تم ۱/۱۲ دو گے تو ہم بھی ۱/۱۲ دیں گے تو یہ جنگ ایک خوبصورت جنگ ہوتی۔پس فیصلہ تو وہی ہے جس کے حق میں اتنی کثرت سے رائیں دی گئی ہیں۔میں جو کچھ کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ زمیندار احباب کے یہ کہنے کے بعد کہ شرح چندہ میں کمی کرنا ہماری ہتک ہے۔ان کے لئے اس قسم کی تقریریں کرنا کہ یہ تمہیں رعایت دی جا رہی ہے یہ درست نہ تھا۔دوسرے میں اس بات پر خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں کہ اس موقع پر جو کہ نہایت نازک موقع ہے، اس جماعت نے جو سب سے زیادہ تکلیف میں ہے اخلاص کا جو نمونہ دکھایا ہے وہ ہمیں امید دلاتا ہے کہ جب قربانی کا مطالبہ کیا جائے گا تو وہ لوگ جو اس قدر تکلیف میں نہیں وہ ان سے پیچھے نہ رہیں گے۔“ 66 وصیت کے متعلق فیصلہ سب کمیٹی بیت المال کی طرف سے رپورٹ پیش ہوئی کہ جو شخص وصیت کرے اُسے اپنی ہر قسم کی آمد کی بھی وصیت کرنی چاہئے۔“ حضور نے فرمایا : - اب وصیت کا سوال پیش ہو گا جو کل رہ گیا تھا اور جو یہ ہے کہ جو کرے اُسے اپنی ہر قسم کی آمد کی بھی وصیت کرنی چاہئے۔“