خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 628
خطابات شوری جلد اوّل ۶۲۸ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء محسوس کرتے ہیں۔زمینداروں کی قوم ایک پرانی قوم ہے اور ان میں عزت و وقار کے کچھ اصول قائم ہیں اور ان کے لئے وہ ہر چیز کو قربان کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔ان اصول میں سے بعض نہایت شاندار ہیں، بعض غلط بھی ہیں۔مثلاً یہ کہ لڑکے لڑکی کی شادی پر حد سے زیادہ خرچ کیا جائے تاکہ ناک نہ کٹ جائے۔اسی طرح زمیندار یہ تو گوارا کر لے گا کہ اُس کی ساری جائداد تباہ ہو جائے لیکن قید ہونا گوارا نہ کرے گا۔ظلم کرنے کی وجہ سے اور ظلم کی پاداش میں قید ہونا بے عزتی ہے مگر مظلوم ہو کر قید ہونا عزت ہے لیکن زمیندار اس کے لئے تیار نہیں ہوتے۔جب زمینداروں کے پاس کچھ نہ تھا تو انہوں نے کہا بے شک ہمیں جیل میں لے جاؤ ہمارے پاس اس قرضہ کی ادائیگی کے لئے کچھ نہیں۔جو اصل کے مقابلہ میں کئی گناہ زائد قرار دیا جاتا ہے۔گورنمنٹ کو مجبور ہو کر قرض چھوڑنا پڑا گو اتنا نہ چھوڑا جتنا چاہئے تھا۔غرض گورنمنٹ تو قید ہی کرتی مگر اسلام کے لئے یہ بھی بچاؤ کی صورت نہیں کہ قید ہو جائیں۔اسلام کے نمائندے اس بات کے لئے بخوشی تیار ہیں کہ اگر ان کے قید ہونے سے اسلام زندہ رہ سکتا ہے تو وہ قید ہو جائیں گے مگر اس طرح بھی اسلام نہیں بچ سکتا۔پس اس وقت اس چیز کا سوال ہے جس کی نزاکت ہماری ذاتی تکالیف سے بہت اہم ہے اور اس موقع پر یہی چیز تھی جس کی ہمیں اپنے زمیندار بھائیوں سے امید تھی اور جس کو انہوں نے پورا کیا ہے اور میں سمجھتا ہوں میری پرسوں کی تقریر کے بعد سب کمیٹی کی یہ تجویز ہی غلط تھی۔سب کمیٹی نے یہ خیال ہی کیوں کیا کہ امام جماعت جب زیادہ سے زیادہ قربانی کے لئے بلا رہا ہے تو زمینداروں کو رعایت دی جائے اور کیوں یہ خیال نہ کیا کہ زمیندار بھی آگے بڑھیں گے اور قربانی کریں گے۔اگر کمزور رعایت چاہتے تو ان سے سلوک کر دیا جاتا مگر مخلصوں کی کیوں ہتک کی جائے۔بعض لوگ مجھے لکھتے ہیں کہ ہم مقروض ہیں، پورا چندہ ادا نہیں کر سکتے تو میں سفارش کر دیتا ہوں کہ ان سے نہ لیا جائے مگر جو مخلص اس میں ہتک محسوس کرتے ہیں کہ ان سے کم چندہ دینے کے لئے کہا جائے تو یہ کہہ کر کیوں ان کی ہتک کی جاتی ہے اور اس سے زیادہ کیا ہتک ہو سکتی ہے کہ اسلام کی مصیبت کے وقت ایسا قاعدہ بنایا جائے جس سے ان کا بوجھ ہلکا ہو۔میں سمجھتا ہوں واقعہ میں یہ ان کی ہتک تھی