خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 624
خطابات شوری جلد اوّل ۶۲۴ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء ہے۔بعض نے اپنے بچوں کے متعلق یہ کہا ہے کہ انہیں قادیان میں تعلیم دلائیں ، خواہ ہائی سکول میں داخل کر دیں ، خواہ مدرسہ احمدیہ میں۔مگر تحریک جدید کے ماتحت جُدا گانہ انتظام ہو۔وہ سکول نہیں بلکہ بورڈنگ ہے جو خاص طور پر مقرر کیا گیا ہے۔لڑکا چاہے مدرسہ احمدیہ میں پڑھے، چاہے ہائی سکول میں پڑھے مگر فی الحال ہائی سکول میں پڑھنے والوں کے لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔اس انتظام کے ماتحت اپنے لڑکے دینے والوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ تحریک جدید کے دفتر میں یہ تحریر دیں کہ ہم نے اپنے فلاں بچہ کو اس تحریک کے ماتحت آپ کے سپرد کیا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ بچہ کے متعلق تحریک جدید والوں کو گلی اختیارات دیئے جائیں یعنی تربیت کے متعلق بچہ کے والد یا سر پرست کو دخل اندازی کا کوئی حق نہیں ہو گا۔ان سب بچوں کو ایک ہی قسم کا کھانا ملے گا سوائے اس کے کہ کوئی لڑکا ایسے علاقہ کا ہو جہاں روٹی کی بجائے چاول کھاتے ہیں، اُس کو چاول اور سالن دیں گے لیکن باقی سب کے لئے ایک ہی کھانا ہوگا اور انہیں ایک ہی رنگ میں رکھا جائے گا۔کوئی نمایاں امتیازان میں نہ ہونے دیا جائے گا تا کہ غریب امیر اور چھوٹے اور بڑے کا امتیاز انہیں محسوس نہ ہو۔پس اُن کا لباس بھی اور کھانا بھی قریب قریب ایک جیسا ہوگا۔پھر ان کی دینی تعلیم پر زیادہ زور دیا جائے گا۔ہاں سکول میں پاس ہونے کے لئے سکول کی تعلیم بھی دلائی جائے گی مگر یہ تعلیم دلانا مقصد نہ ہو گا بلکہ اصل مقصد دینی تعلیم ہو گی۔بڑی عمر کے لڑکوں کو تہجد بھی پڑھائی جائے گی اور کسی ماں باپ کی شکایت نہ سنی جائے گی۔یہ تو ہو سکے گا کہ لڑکے کو اس بورڈنگ سے خارج کر دیا جائے مگر یہ نہ سُنا جائے گا کہ لڑکے کو یہ تکلیف ہے، اس کا یوں ازالہ کرنا چاہئے یا اُس کے لئے یہ انتظام کیا جائے۔اس بورڈنگ کے سپرنٹنڈنٹ سے ہمارا عہد ہے کہ وہ ان بچوں میں باپ کی طرح رہے گا اور اگر لڑکوں میں سے کوئی ناروا حرکت کرے گا تو اس کی سزا خود لڑکے ہی تجویز کریں گے مثلاً یہ کہ فلاں نے جھوٹ بولا، اُسے یہ سزا ملنی چاہئے۔اس قسم کے اصول ہیں جو اس بورڈنگ کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور ابھی میں غور کر رہا ہوں۔پس جو دوست اس تحریک کے ماتحت اپنے بچوں کو داخل کرنا چاہیں وہ تحریر دے جائیں۔صرف یہاں کے کسی مدرسہ میں داخل کرا دینا کافی نہ ہو گا۔اسی طرح انہیں بورڈنگ یا مدرسہ کے