خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 610
خطابات شوری جلد اوّل ۶۱۰ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء پر مجبور ہو گا کہ اب ہماری وہی مثال ہے جس طرح کسی نے کہا تھا۔تخت یا تختہ۔کسی شخص پر جنگ کا کوئی خاص موقع آیا تھا اُس وقت اُس نے کہا تھا کہ اب تخت ہے یا تختہ یعنی اس میدانِ جنگ سے یا تو میں تخت لے کر لوٹوں گا یا میرا جنازہ اُٹھایا جائے گا۔کیا عجب ہے کہ ہمارے لئے بھی ایسا ہی وقت آچکا ہو۔خدا تعالیٰ کے لئے دو تخفے جس احمدی میں ذرا بھی غیرت اور شرافت کا کوئی ہو آج اس ارادہ اور اس نیت کے بغیر اُس کے لئے کام حصہ کرنا ممکن ہی نہیں کہ یا تو سلسلہ احمدیہ کے لئے فتح حاصل کریں گے یا ہر چیز کو اِس راہ میں قربان کر دیں گے۔دو ہی تحفے ہیں جو ہم خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کر سکتے ہیں۔یا تو احمدیت کی فتح یا اس راہ میں اپنی ہر ایک چیز جان، مال، عزت ، آبرو کو قربان کر سکتے ہیں۔ابھی تک ہماری جماعت کے سامنے وہ مطالبات پیش ہی نہیں ہوئے جو قربانی کے اس مفہوم کو عملی طور پر ظاہر کر سکیں۔لیکن جیسا کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کُونُوا ربانین یعنی آہستگی سے قدم اُٹھا ئیں اور آگے بڑھتے جائیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ربانی کے معنے پوچھے گئے تو انہوں نے فرمایا وہ جو چھوٹے علوم بڑے علوم سے پہلے سکھاتا ہے۔یہ رستہ وہی ہے جو بڑی قربانیوں کی طرف لے جاتا ہے اور جو سیدھے رستہ پر چلتا ہے وہ آج نہیں تو کل اور کل نہیں تو پرسوں منزل مقصود پر پہنچ جاتا ہے۔یہ تو ہو سکتا ہے کہ سیدھے رستہ پر چلنے والا دیر لگا دے مگر وہ رستے سے بھٹک نہیں سکتا۔گو اس وقت تک جو مطالبات جماعت سے کئے گئے ہیں وہ ایسے نہیں کہ جماعت کے طور پر اُن کے متعلق تخت یا تختہ کہہ سکیں مگر جب تک انفرادی طور پر اس جگہ پر ہم کھڑے نہیں ہوتے ، کام کرنا مشکل ہے۔جماعت کے لئے بوجھ بہت لوگ ایسے ہیں جو مفید ہونے کے بجائے جماعت کے لئے بوجھ بنے ہوئے ہیں۔اگر تیرنے والے کے گلے میں بڑی بھاری سل باندھ دی جائے تو وہ تیر نہیں سکے گا بلکہ ڈوب جائے گا۔اس کے لئے تیرنا اُسی وقت ممکن ہوگا جبکہ سل اس کے گلے سے اُتار لی جائے یا اگر کسی نے کسی اور شخص کو جو ڈوبنے لگا ہو اُٹھایا ہوا ہو تو وہ اس عمدگی سے تیر نہیں سکے گا جس طرح خالی ہونے کی صورت