خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 609 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 609

خطابات شوری جلد اوّل مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الكَرِيمِ مجلس مشاورت ۱۹۳۵ء ( منعقده ۱۹ تا ۲۱ ر ا پریل ۱۹۳۵ء) پہلا دن مجلس مشاورت منعقده ۱۹ تا ۲۱۔اپریل ۱۹۳۵ء کا پہلا اجلاس تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہال میں شروع ہوا۔تلاوت قرآن کریم کے بعد حضور نے فرمایا: - پیشتر اس کے کہ مجلس شوری کی کارروائی شروع کی جائے میں چاہتا ہوں کہ دوست دعا مل کر دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس کام میں برکت ڈالے۔ہماری نیتوں میں، اخلاص میں ، سمجھ میں ، فکر میں، قوت عملیہ میں برکت ڈالے اور ہماری صرف باتیں کرنے کی عادت چھڑا کر حقیقی اور سچے طور پر کام کرنے کی توفیق عطا کرے۔“ تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد افتتاحی تقریر کرتے ہوئے افتتاحی تقریر حضور نے فرمایا: - ” ہم آج پھر اللہ تعالیٰ کے دین کے کام کے لئے اور اس امر پر غور کرنے کے لئے کہ کس طرح اپنے فرائض کو پہلے سے زیادہ بہتر طور پر ادا کر سکتے ہیں یہاں جمع ہوئے ہیں۔کام کرنے کا وقت میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے لئے اب باتیں کرنے کا وقت نہیں رہا بلکہ کام کرنے کا وقت آ گیا ہے۔باتیں بہت لوگ کر سکتے ہیں اور ایسی ایسی باتیں کر سکتے ہیں کہ قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے تم پتہ نہیں لگا سکتے کہ وہ مخلص ہیں یا منافق لیکن آج سلسلہ احمد یہ باتوں کو برداشت نہیں کرسکتا۔ہماری مثال ہر وہ شخص جس کے دل میں سلسلہ کا درد ہے اور جو اس جماعت میں بچے طور پر اور سمجھ کر داخل ہوا ہے نہ کہ محض رسم کے طور پر وہ اس امر کو تسلیم کرنے