خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 607
خطابات شوری جلد اوّل ۶۰۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ جو شخص تین ماہ تک چندہ نہیں دیتا اُسے جماعت سے نکال دیا جائے اور اگر پورا نہیں دیتا تو اور سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں اول تو جو شخص جس کی بیعت کرتا ہے اور جس سے یہ اقرار کرتا ہے کہ ٹھسر وئیر میں ثابت قدم رہوں گا اور احکام کی پابندی کروں گا اس کی ناراضگی ہی بہت بڑی سزا ہے۔ماں باپ کسی سے ناراض ہو جائیں تو اسے چھین نہیں آ سکتا۔پھر اس کی ناراضگی کس قدر بے چین کرنے والی ہو سکتی ہے جس کا تعلق ماں باپ سے بھی بڑھ کر ہے۔میں جب کسی مخلص سے کہتا ہوں کہ ناراض ہوں تو اُس کی کیا حالت ہوگی اور یہ اُس کو ہی سزا نہیں ہوتی اپنے آپ کو بھی ہوتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین صحابیوں سے ناراض ہو گئے۔ان میں سے ایک کہتا ہے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مجلس میں جاتا اور اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ کہتا مگر آپ جواب نہ دیتے اور کن اکھیوں سے میری طرف دیکھتے۔تو وہ سزا اُس صحابی کو ہی نہ تھی بلکہ اس کی اذیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی تھی۔اسی طرح جن سے میں ناراض ہوتا ہوں اُن کو ہی سزا نہیں ہوتی مجھے بھی ہوتی ہے مگر سلسلہ کے وقار اور ضروریات کے پیش نظر سزا دینی پڑے گی۔قادیان میں ایسا ہوا ہے کہ ایک مخلص شخص سے میں ناراض ہوا تو غم کی وجہ سے اسے دو ہفتہ کے اندر اندر سل ہوگئی۔اس پر مجھے پچھتاوا ہوا۔ایک دوست نے سُنا یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک دفعہ سیر کو جا رہے تھے کہ آپ نے پان مانگا۔منشی ظفر احمد صاحب نے پان دیا۔جس میں زردہ پڑا ہوا تھا۔آپ نے کھایا تو قے ہو گئی مگر اس خیال سے کہ دل شکنی نہ ہو فرمانے لگے معدہ صاف ہو گیا۔خوب قے آگئی ہے۔منشی ظفر احمد صاحب جب یہ بات سُناتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں۔تو محبت کے رشتے بالکل اور ہوتے ہیں۔ان میں معمولی سی سزا بھی بہت اثر رکھتی ہے۔پس جماعت کو پھر توجہ دلاتا ہوں کہ ابھی ایک مہینہ باقی ہے۔اپنے اپنے بقائے ادا کر دیں اور اگر ادا نہیں کر سکتے تو جو طریق میں نے بتائے ہیں ان پر عمل کریں اس طرح ذمہ واری ان پر نہ رہے گی۔آئندہ بجٹ کے متعلق دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ جو کچھ