خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 597

خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء کی تقریر۔انہوں نے جہاں مدرسوں پر مبالغہ سے کام لینے کا الزام لگایا وہاں وہ خود ایسے جوش میں تھے کہ جو ایسی مجلس اور ان کے عہدہ کے خلاف تھا۔انہوں نے گویا یہ سمجھا کہ کمیشن اور سب کمیٹی کے خلاف تقریریں کرنے والے اُن کے دشمن تھے اور غالباً انہوں نے ہتک کا لفظ بھی بولا، مگر ایسا نہیں تھا۔سکیم کے متعلق کسی نے کوئی ہتک آمیز لفظ نہیں بولا تھا نہ مبالغہ کیا تھا مگر چوہدری صاحب بہت جوش میں تھے اور انہوں نے کہا کہ سُنی سنائی باتیں کہی گئی ہیں اور مبالغہ کیا گیا ہے۔حالانکہ تقریر کرنے والوں میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہ تھا جس نے طنز کے طور پر گفتگو کی ہو۔ان میں سے ہر ایک کا منشاء یہ تھا کہ دینی تعلیم کو پڑھایا جائے۔اس موقع پر میں نے ایک بات دیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ نقطہ نگاہ بدلنے سے ایک ہی بات ہوئی ہے، مگر دونوں فریق سمجھتے ہیں کہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔دین کی تعلیم پر زور دینے والوں میں سے ایک بھی ایسا نہ تھا جو یہ کہتا ہو کہ حساب اور اردو، جغرافیہ اور تاریخ پڑھائی جائے۔ادھر جو سکیم کی تائید کرتے تھے ، وہ بھی یہی کہتے تھے مگر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ایک دوسرے کے خلاف ہیں۔بات کیا تھی یہ کہ جو سکیم پر اعتراض کر رہے ہیں ان کا منشاء یہ تھا کہ جغرافیہ پڑھاؤ، تو دین کی تائید کرنے والا پڑھاؤ اس طرح حساب اور اردو اور دوسرے علوم پڑھاؤ تو دین کی تائید کرنے والے۔مگر دوسرے سمجھتے تھے یہ سکیم کے مخالف ہیں۔میں یہ بات سمجھ نہیں سکا کہ امریکہ اور افریقہ کا جغرافیہ پڑھاؤ تو پڑھنے والے عالم کہلا سکتے ہیں لیکن اگر عرب اور اسلامی ممالک کا جغرافیہ پڑھاؤ تو جاہل ہوتے ہیں۔یہ استدلال میری سمجھ میں نہیں آیا۔ہزار ہا باتیں یوروپین لوگوں نے ایسی لکھی ہیں جو جہالت کی باتیں ہیں۔پھر کیا وجہ ہے اُن علوم کو پڑھنے والا تو عالم کہلائے اور اسلامی علوم پڑھنے والوں کو جاہل کہیں۔اگر نپولین کی لائف پڑھیں تو عالم اور اگر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی لائف پڑھیں تو جاہل۔یہی وہ بات ہے جسے ہم بدلنا چاہتے ہیں اور یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ احمدی اسلامی علوم کو جاری کرنا چاہتے ہیں۔ایک انجینئر اگر ڈاکٹری کی بات غلط کہتا ہے تو اُسے جاہل نہیں کہتے بلکہ یہ کہتے ہیں کہ اُسے علم نہیں پھر کیا وجہ ہے اسلامی علوم جاننے والا اگر کسی علم میں غلطی کرتا ہے تو پھر سارے اسلامی علوم پر پانی پھیر دیا جائے۔اسی روح کو ہم مٹانا چاہتے ہیں اور یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی علوم بھی علوم ہیں اور ان کے پڑھنے والے بھی