خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 596 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 596

خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۶ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء جو دینی ہے اور اس کے ساتھ دینی علوم کو سمجھنے اور دینی باتوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے یہ باتیں زائد کی جاتی ہیں اس سے بہت فرق پڑ جائے گا۔میں نے جیسا کہ جلسہ سالانہ کے موقع پر بتایا تھا ہمارے لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی اولاد کے دماغوں میں یہ کیفیت پیدا کریں کہ ہر بات میں ان کا ذہن اس طرف جائے کہ دین مقدم ہے دُنیا پر۔اصل چیز دین کی تعلیم ہے اور دوسری تعلیمیں تائیدی ہیں ورنہ نتیجہ اچھا نہ ہوگا۔دیکھو مدرسہ احمدیہ میں انگریزی رکھی ہوئی ہے مگر مجھے معلوم ہے کہ اکثر لڑ کے انگریزی نہیں پڑھتے اور اُستاد بھی اُن کے ساتھ اس لئے رعایت کر دیتے ہیں کہ انگریزی زائد تعلیم رکھی ہوئی ہے۔اس کے مقابلہ میں ہائی سکول میں یہ ہوتا ہے کہ اس میں پڑھنے والے لڑکوں کو دینی تعلیم کی طرف توجہ نہیں جیسا کہ کل دینیات کے استاد نے بتایا تھا۔گوناظر صاحب تعلیم و تربیت نے کہا ہے کہ ہائی سکول میں دینی تعلیم لازمی ہے مگر اصل ناظر صاحب نے رپورٹ کی تھی کہ ہائی سکول کے طلباء کا امتحان لیا گیا تو معلوم ہوا کہ موٹے موٹے دینی سوالات کے جواب بھی اُنہوں نے نہایت نا معقول دیئے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ دینی تعلیم کو زائد چیز سمجھ کر اس کی پرواہ نہیں کی جاتی حالانکہ کئی دفعہ اس کی طرف توجہ دلائی جا چکی ہے۔گو اس میں مشکلات ہیں۔جیسا کہ کل بتایا گیا تھا کہ آٹھویں، نویں، دسویں جماعت میں جو باہر کے لڑکے آتے ہیں وہ چونکہ دینیات کی تعلیم نہیں رکھتے اس لئے اُن کا جماعت میں چلنا مشکل ہوتا ہے۔بیشک یہ ایک مشکل ہے، میں اسے تسلیم کر لیتا اگر سکول کے پرانے طالب علموں کی بھی ویسی ہی حالت نہ ہوتی۔سکول والے یا تو گھبرا گئے اور اُنہوں نے باہر سے آنے والے لڑکوں کے لئے دینیات کی تعلیم کا الگ انتظام نہیں کیا یا پھر یہ کہ دینی تعلیم کی پرواہ نہیں کی گئی اور یہ نہیں سمجھا گیا کہ یہ تعلیم بھی ضروری ہے۔وہ سمجھتے ہیں ہمارا ہائی سکول ہے اس میں دینی تعلیم کے متعلق ہم پر کوئی ذمہ واری عائد نہیں ہوتی۔ناظر تعلیم و تربیت کا فرض ہے کہ ہر سال دیکھیں ہائی سکول جاری کرنے کی جو غرض ہے اور جو یہ ہے کہ ضروری دینی تعلیم دی جائے وہ پوری ہوتی ہے یا نہیں۔صرف قانون بنا دینا کافی نہیں۔یہ دیکھنا چاہئے کہ اس پر عمل بھی ہوتا ہے یا نہیں۔اس مسئلہ پر جو تقریریں کی گئی ہیں میں اِن میں سے بعض کے متعلق سمجھتا ہوں قابل اعتراض ہیں۔مثلاً چوہدری فتح محمد صاحب