خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 592
خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۲ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء جاری ہے۔سوال و جواب کا بچوں پر بہت گہرا اثر پڑتا ہے۔بچوں سے اگر مذہب کے متعلق سوال کئے جائیں تو بہت مفید ہو سکتے ہیں۔یہ نفسیات کا نکتہ ہے۔پس ایسی کتابیں بنائی جائیں جن میں اس قسم کے سوال و جواب ہوں کہ تم کو پیدا کرنے والا کون ہے ؟ نبی کسے کہتے ہیں؟ سب سے کامل نبی کون ہے؟ مسلمانوں کی مقدس کتاب کون سی ہے؟ اصلاحات ایسی ہیں جو کورسوں کو مؤثر اور عمدہ بنا سکتی ہیں۔اس کے متعلق میں 66 کمیٹی بناؤں گا جو جلد سے جلد فیصلہ کرے “ اس موقع پر چند نمائندگان نے مڈل کے نصاب کے متعلق اپنی آراء پیش کیں۔اس پر حضور نے اپنی تقریر کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا: - (4) مدل کے کورس کے متعلق جو باتیں بیان کی گئی ہیں کہ عربی کورس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اسباق رکھے جائیں۔یہ مفید چیز ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اِن سے غرض یہی تھی کہ لوگ انہیں یاد کریں۔پس نہ صرف لڑکیوں کے کورس میں بلکہ لڑکوں کے کورس میں بھی انہیں رکھا جائے۔بعض اسباق تو چھپے ہوئے ہیں۔بعض میر محمد اسماعیل صاحب کے پاس بغیر چھپے بھی ہیں ان کو لے کر جمع کر دیا جائے۔(۷) غلام محمد صاحب کی یہ تجویز کہ تعلیم کے عرصہ کو بڑھا دیا جائے تاکہ زیادہ بوجھ نہ پڑے، اس پر سب کمیٹی غور کر لے گی۔حدیث کے متعلق میر محمد اسحق صاحب کی کتاب اگر ایسی ہے جو نصاب میں داخل کی جاسکتی ہے تو اس پر غور کر لیا جائے گا۔ایک بات شیخ بشیر احمد صاحب (لاہور) نے بیان کی تھی مگر پھر وہ خود اسے بھول گئے۔اُن کی بات ایک غور طلب بات تھی۔ہر مسلمان کے متعلق یہ سمجھنا چاہئے کہ خدا کی کتاب اُسے آنی چاہئے۔جسے نہیں آتی اُس کے متعلق یہ جائز نہیں کہ مان لیں اُسے نہیں آنی چاہئے بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اس کے لئے ہم انتظام نہ کر سکے۔غرض ارادہ ، نیت اور کوشش کے لحاظ سے کسی کو مستثنے نہ کیا جائے خواہ نتیجہ کے لحاظ سے کوئی مستقے ہو جائے۔سکیم میں دس سپارے لازمی تعلیم رکھی گئی ہے مگر اس میں سارا قرآن ختم نہیں کیا گیا۔صرف دس پارے رکھے گئے ہیں اس کے معنی یہ ہوئے کہ اگر کوئی لڑکی دس پارے پڑھ کر تعلیم چھوڑ دے تو حرج نہیں ہے۔جب یقینی طور پر یہ بات مدنظر ہے کہ مڈل تعلیم کا آخری درجہ ہے اور اس