خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 591
خطابات شوری جلد اوّل ۵۹۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء کیا گیا ہو۔ایسی کتابیں جس قدر جلدی بدلی جاسکیں بدل دی جائیں۔اسی طرح قصص ہند کے متعلق جو بات پیش کی گئی ہے وہ ضروری ہے۔اس کی تعلیم یہ ہے ہندوؤں کے آباء بڑے نیک اور خدا پرست تھے اور مسلمان ڈاکو اور ظالم تھے۔اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مسلمان بچوں میں افسردگی اور مایوسی پیدا ہوتی ہے اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اسلاف کو بھول جانا چاہئے۔یہ کتابیں جس قدر جلد بدلی جاسکیں بدلی جائیں۔(۳) اسی طرح مولوی سعد الدین صاحب کی تجویز معقول ہے کہ لڑکیوں کے لئے جسمانی ورزش کا انتظام ہونا چاہئے۔ملک گل محمد صاحب کی لڑکیوں کو فارسی پڑھانے کے متعلق جو تجویز ہے وہ بھی ضروری ہے۔(۴) حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ایک دفعہ مرزا محمود بیگ صاحب گوجرہ والے نے پوچھا تھا کہ لڑکیوں کی تعلیم کیا ہو؟ تو آپ نے اُن کو جو خط لکھا اُس میں یہ بھی تحریر فرمایا کہ فارسی کی تعلیم ضروری ہے۔میں ایک کمیٹی اس بات پر غور کرنے کے لئے مقرر کروں گا غو کہ کیوں نہ قرآن کریم پہلے ختم کرانے کے بعد دوسری تعلیم شروع کرائی جائے۔نصاب کے متعلق جو کتابیں اس وقت مل سکتی ہیں وہی لے لی جائیں اور جلد سے جلد ایسے کورس تیار کئے جائیں کہ ہر مضمون میں مذہبی اور اسلامی تعلیم مد نظر رہے اور زباندانی بھی ان کے ذریعہ آسکے۔میرے نزدیک میاں معراج الدین صاحب کی یہ تجویز نہایت عمدہ ہے کہ زبان دانی میں ہی مسائل بیان کر دیئے جائیں۔اس طرح مسائل اور زبان دانی دونوں ہم سکھا لیتے ہیں۔بعض عیسائی مدارس میں قرآن کریم اس لئے حفظ کراتے ہیں کہ اس طرح زبان دانی آتی ہے۔احیاء العلوم امام غزالی صاحب کی کتاب بھی زبان دانی کے لئے پڑھائی جاتی ہے۔حجۃ البالغہ ہے اس کی عربی بھی نہایت عمدہ ہے۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابیں بہت اعلیٰ پایہ کی ہیں (۵) پس ایسی کتابیں پڑھائی جائیں تاکہ مسائل بھی ان میں آجائیں۔یہ طریق یورپ میں رائج ہے مگر مسلمانوں نے چھوڑ دیا ہے۔پہلے مسلمانوں میں بھی رواج تھا مگر اب اس قسم کی باتوں پر ہنسی مذاق کیا جاتا ہے۔” پکی روٹی، پنجابی کی ایک کتاب ہے جس میں سوال وجواب کے طور پر دینی مسائل بیان کئے گئے ہیں۔یورپ میں اب بھی یہ طریق وو