خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 587
خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء اگر چہ اِس طرف اِن کو توجہ بھی دلائی گئی مگر پھر ہیر پھیر کر یہی کہنے لگے کہ کیوں یہ سوال پیش کیا گیا؟ دوسری بات انہوں نے یہ کہی کہ خلیفہ کی لمبی تقریر کی کیا ضرورت ہے اگر کسی کو یہ سوال پیدا ہو کہ لمبی تقریر سے تکلیف ہوتی ہے اور حضور بیمار ہو جاتے ہیں تو کیا ضرورت ہے کہ لمبی تقریر کریں۔غرض اُن کے نزدیک اس بات کو مجلس شوریٰ میں پیش کرنے کی ضرورت نہیں۔مگر اس سے عجیب سوال پیدا ہو جاتا ہے اور وہ یہ کہ لمبی تقریر نہ ہو بلکہ چھوٹی ہو۔پھر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تقریر نہ ہو صرف شکل ہی دیکھ لیں گے۔پھر کہا جا سکتا ہے مکان کو ہی چھو لیں گے۔اسی طرح قہر پرستی پیدا ہوتی ہے۔قبری پھر کہا گیا ہے کہ خلیفہ اسیح کی صحت روزہ رکھ کر تقریر کرنے سے خراب نہ ہوئی تھی حالانکہ رمضان میں تین دفعہ انفلوئنزا کے حملے مجھ پر ہوئے۔چوتھی بات یہ کہی گئی ہے کہ جلسہ کے ایام کا بدلنا يُحَرِّفُونَ کا مصداق بننا ہے حالانکہ یہ خدا کا حکم ہے اور شریعت کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔اس کے لئے کوئی اور مثال دینا ٹھیک نہیں ہے ہے۔جلسہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دسمبر کے ایام میں مقرر کیا ہے مگر آپ نے ان ایام سے ملتوی بھی کیا ہے۔گو یہ بات اُن دوست کی ٹھیک نہیں کہ جلسہ نفل ہے۔جلسہ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بہت ضروری قرار دیا ہے۔اس میں شمولیت پر بہت زور سے توجہ دلائی ہے اور اسے نفلی حج قرار دیا ہے۔اس کا مقام بہت بلند بتایا ہے۔یہ عام نفل والی بات نہیں۔گو شرعی فرض نہیں بلکہ واجبات میں سے ہے۔مگر حضرت خلیفہ اول کے زمانے میں بھی ان ایام کو بدلا گیا اور میرے زمانہ میں بھی بدلا گیا۔اس لئے يُحَرِّفُونَ کا فتویٰ مجھ پر بھی اور حضرت خلیفہ اول پر بھی لگ گیا حالانکہ یہ کفار کے متعلق آیت ہے۔پانچویں بات مولوی صاحب نے اسی قسم کی یہ کہی ہے کہ احمدیوں کو حقہ پینے سے منع کیا جاتا ہے مگر یہ حکم ہے کہ اگر کوئی پیتا ہے تو اندر پیئے۔اس سے یہ غلط نہی لگ سکتی ہے کہ گویا ہم نے یہ حکم دیا ہوا ہے کہ اندر بیٹھ کر حقہ پی لیا کریں حالانکہ میں نے جو کچھ کہا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ جو اتنی بوڑھی عمر کے لوگ ہیں کہ حقہ نہ چھوڑ سکیں وہ اندر پی لیا کریں اور یہ اس