خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 583 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 583

خطابات شوری جلد اوّل ۵۸۳ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء مخالفت زوروں پر ہے۔دراصل یہ مخالفت کی کرو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہی ہے اور اس کی غرض یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اُس سے مانگیں تا کہ ہمیں دیا جائے۔جس طرح ماں بعض اوقات چاہتی ہے کہ بچہ دودھ مانگے تو اُسے دے اسی طرح خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم اُس سے مانگیں۔پس یہ الہی فعل بتاتا ہے کہ ہمیں کچھ ملنے والا ہے مگر اس کے لئے ضرورت ہے کہ ہم مانگیں۔خدا تعالیٰ سے مانگنا کچھ تو دُعا سے ہوتا ہے اور کچھ عمل سے۔پس اس وقت ہماری وہی حالت ہے جیسا کہ کتابوں میں آتا ہے کہ کوئی بزرگ تھے۔کسی نے اُن کی بہت خدمت کر کے انہیں خوش کیا تو وہ کہنے لگے جو کچھ مانگنا چاہتے ہو مانگ لو۔پس خدا تعالیٰ ہمیں کچھ دینا چاہتا ہے اور یہ اُس کی سنت ہے کہ جس کو وہ دینا چاہتا ہے اُسے ابتلاء میں ڈالتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی مشکلات پیش آئیں۔اس وقت آپ کو الہام ہوا۔چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دُعا کیجئے قبول ہے آج 2 یہ موقع ہمارے لئے بھی آیا ہوا ہے۔اگر ہماری جماعت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور ہم خوب جانتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں اور قلم برداشتہ لکھ سکتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم حق پر ہیں۔کئی لوگ لکھتے۔لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِینَ کے ماتحت لکھو کہ تم حق پر ہو اور میں فوراً لکھ دیتا ہوں۔پس جب ابتلاء خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے اور کچھ انعام دینے کے لئے آئے تو زیادہ ہمت، زیادہ قربانی اور زیادہ ایثار کی رُوح پیدا کرنی چاہئے تا کہ انعامات ملیں۔پس ہمیں خدا تعالیٰ کے خاص فضل حاصل کرنے کے لئے عملی قربانی کرنی چاہئے اور دعاؤں پر بہت زور دینا چاہئے۔ایک دفعہ پھر نصیحت ان ہدایات کے بعد اب میں سب کمیٹیوں کو باری باری بلاؤں گا کہ اپنی رپورٹیں پیش کریں مگر ایک دفعہ پھر یہ نصیحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں کہ سنجیدگی اور متانت کے ساتھ تمام کارروائی کی طرف توجہ قائم رکھیں۔اگر کوئی غریب سے غریب بھائی بھی بولنے کے لئے کھڑا ہو تو اُس کی باتیں توجہ اور غور سے سننی چاہئیں۔مجھے خدا تعالیٰ نے اس درجہ کے لحاظ سے عقل اور سمجھ بھی دی ہے مگر میں نے بیسیوں دفعہ ایسے لوگوں کے منہ سے وہ باتیں سنیں جو بڑوں سے سننے میں نہ آئیں اور ان