خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 577
خطابات شوری جلد اوّل ۵۷۷ مجلس مشاورت ۱۹۳۴ء میں نے اُسے کہا میں کچھ پڑھا لکھا تو ہوں نہیں مگر اتنا جانتا ہوں کہ مرزا صاحب وہاں اپنے گھر میں بیٹھے ہیں اور لوگ دُور دُور سے اُن کے پاس آتے ہیں۔تم لوگوں کو اُن کے پاس جانے سے روکتے رہتے ہو مگر کوئی تمہاری بات نہیں سنتا اور تم ادھر اُدھر مارے مارے پھرتے ہو۔یہ اُس کے منہ سے بھی ایسی بات نکل گئی جو بالکل سچی اور پکی تھی اور جس کا مولوی محمد حسین صاحب جیسے عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔پس اگر کسی کے دل میں یہ خیال ہو کہ اس کے سوا کوئی اور عقل کی بات نہیں کر سکتا تو یہ غلط خیال ہے اور اس وجہ سے اپنی بات کی بیچ اور ضد پیدا ہو جاتی ہے۔ہر ایک کی بات غور اور توجہ سے سنو خدا تعالیٰ کبھی چھوٹے سے چھوٹے بچہ کے ذریعہ ہدایت جاری کرا دیتا ہے اور کبھی بڑے سے بڑے انسان کے ذریعہ۔اس لئے مشوروں کے وقت یہ بات مدنظر رکھنی چاہئے کہ ہم نہیں جانتے ہدایت کی بات کس کے منہ سے نکلے گی۔ہم جو کچھ کہیں گے دیانت سے کہیں گے اور دوسروں کی باتیں سنیں گے۔بسا اوقات مجھ سے ایسا ہوا ہے کہ تعلیم یافتہ دوستوں نے جو مشورہ دیا وہ صحیح نہ تھا مگر ایک دیہاتی نے جو مشورہ دیا گو اس کی زبان شستہ نہ تھی اور وہ لکھا پڑھا نہ تھا مگر اُس کا مشورہ صحیح تھا۔پس مشورہ دیتے وقت بلکہ دوسروں کا مشورہ سنتے وقت خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کیا عجب ہے خدا تعالیٰ اسی کے ذریعہ جو بول رہا ہے ہدایت جاری کر دے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وقت سوال پیدا ہوا کہ نماز کے لئے کس طرح لوگوں کو بلایا جائے۔اس کے متعلق ایک عام شخص کو طریق بتایا جب اُس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور وہ طریق بیان کیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بھی کہا کہ مجھے بھی یہی طریق بتایا گیا تھا اور وہ اذان تھی۔تو دینی معاملہ میں بھی ہدایت ایک معمولی آدمی کے ذریعہ جاری ہو سکتی ہے۔پس ہر ایک کی بات غور اور توجہ سے سنی چاہئے۔ایک عام مرض آجکل یہ عام مرض ہے کہ جب اپنے سے کوئی چھوٹا شخص بات کر رہا ہو تو اُس کی طرف توجہ نہیں کی جاتی بلکہ منہ دوسری طرف پھیر لیا جاتا ہے حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طریق یہ تھا کہ جب کوئی آپ سے بات کرتا تو