خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 560

خطابات شوری جلد اوّل د مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء بجٹ پورا کرنا یاد رکھنا چاہئے بجٹ کو پورا کرنا مجھ پر احسان نہیں نہ سلسلہ پر احسان ہے نہ خدا پر احسان ہے۔جو خدا کے دین کی خدمت کے لئے کچھ دیتا ہے وہ خدا تعالیٰ سے سو دا کرتا ہے اور اس سو دا کو پورا نہ کرنے کی وجہ سے خدا کے نزدیک جواب دہ ہے اور جس قدر کمی رہتی ہے وہ اُس کے نام بقایا ہے۔اگر وہ اس دُنیا میں ادا نہیں کرتا تو جب خدا تعالیٰ کے سامنے پیش ہو گا خدا تعالیٰ فرمائے گا جاؤ جہنم میں بقایا ادا کر کے آؤ۔یہ تو اُس کی حالت ہو گی مگر مجھے افسوس ہے کہ نظارت بیت المال اسے متنبہ کرنے کی بجائے اسے اندھا رکھتی ہے تا کہ وہ مرکز جہنم میں جائے۔اس طرح نظارت پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔اگر اسے بتا دیا جائے کہ تمہارا فرض ہے اپنے عہد کے مطابق اتنی رقم ادا کرو اور وہ پھر ادا نہ کرے تو نظارت کی ذمہ داری باقی نہیں رہتی۔لیکن موجودہ طریق عمل کے لحاظ سے تو نظارت یہ کہتی ہے کہ ۲۵ فیصدی کمی میں خود کر دیتی ہوں۔اس صورت میں پوری رقم ادا کرنے کا خیال کیونکر آ سکتا ہے۔صحیح طریق عمل صحیح طریق عمل یہ ہے کہ ہر جماعت کے متعلق طے کر لو کہ اُس کے لئے کتنا چندہ ادا کرنا واجب ہے۔اگر وہ جماعت اُس رقم کی تعیین کے متعلق کوئی اپیل نہیں کرتی اور معقول وجوہات پیش کر کے کم نہیں کرا لیتی اور پھر اُسے پورا نہیں کرتی بغیر کسی معقول وجہ کے تو جو کچھ باقی رہتا ہے وہ اُس پر قرض ہے جو اُ سے ادا کرنا چاہئے۔یہ طریق عمل یا تو بجٹ کی کمی کو پورا کر دے گا یا منافقین کو جماعت سے جدا کر دے گا اس وقت تک چونکہ اس طریق پر عمل نہیں ہوا اِس لئے گزشتہ کو جانے دو لیکن اس سال سے اس پر عمل شروع کرو کہ جو رقم کسی جماعت کے ذمہ لگائی گئی تھی اگر اُس نے اُسے ادا نہیں کیا تو اگلے سال کے چندہ کے ساتھ اُس بقایا کو شامل کرو اور گزشتہ سال کے بقایا کو اُس کے نام قرض قرار دو اور کہو کہ یا تو اس کے ادا نہ کرنے کی معقول وجوہات پیش کرو یا اسے آئندہ سال ادا کرو۔اس طرح وہ جماعت مجبور ہو گی کہ جو لوگ نادہند ہیں انہیں ہمارے سامنے پیش کرے اور نادہند مجبور ہوں گے کہ یا تو با قاعدہ چندہ ادا کریں یا پھر جماعت سے نکلیں۔اگر کوئی جماعت ایسا نہ کرے گی اور تین سال تک اُس کے ذمہ بقایا نکلتا رہے گا تو اُس کا ہم بائیکاٹ کر دیں گے اور ہمارے انتظام سے اُس کا کوئی تعلق نہ ہو گا۔کیا وجہ ہے کہ وہ