خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 559

خطابات شوری جلد اوّل ۵۵۹ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں ہم برداشت نہیں کر سکتے تو ہم انہیں کہیں گے ہم تمہارے ممنون ہیں کہ کچھ دُور تک تم نے ہمارا ساتھ دیا اور ہمارے ساتھ چلے اب اگر تم آگے نہیں جا سکتے تو تمہارا راستہ وہ ہے اور ہمارا یہ۔اس طرح اگر خدانخواستہ ساری جماعت میں سے ایک ہی شخص ایسا رہ جاتا ہے جو اس مقصد کا جھنڈا کھڑا رکھے جسے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام لے کر آئے تھے تو اُسی کے ہاتھ پر اسلام کی فتوحات ہوں گی اور اُس کے ذریعہ خدا تعالیٰ کا نور دنیا میں پھیلے گا اور اگر مجموعی فتوحات ہوں گی تو بھی خدا تعالیٰ کے نزدیک ایسے ہی لوگوں کے نام پر لکھی جائیں گی جو آخری سانس تک اسلام کے لئے صرف کر دینے کے لئے تیار ہوں گے۔خدا تعالیٰ یہ نہیں دیکھے گا کہ اس وقت کوئی کیا کرتا ہے بلکہ یہ دیکھے گا کہ اپنے دل میں ہر ممکن قربانی کرنے کے لئے کون تیار ہے۔ایسے آدمیوں کو اُن کی پرواہ نہیں کرنی چاہئے جو خدا کی راہ میں ان کے ساتھ نہیں چلنا چاہتے۔مگر یہ اُسی وقت ہونا چاہئے جب خدا تعالیٰ کی منشاء کو پورا کرنے کا سوال ہو ورنہ ہمارا فرض ہے کہ دوسروں کا بھی خیال رکھیں اور جہاں تک ممکن ہو اُن کو ساتھ چلائیں۔پس اس میں شک نہیں کہ کمزور ساتھیوں کو اُٹھا کر چلنا ہمارا کام ہے لیکن انتہائی صورت میں اپنی ذمہ داری ادا کرنے کا سوال ہو تو ہمارا فرض ہے کہ جو ساتھ نہیں دینا چاہتے اُن کو چھوڑ دیں اور خود آگے چلیں۔نہایت ہی خطرناک بات میرے نزدیک یہ نہایت ہی خطرناک بات ہے اگر ہم تشخیص شدہ آمدنی پر بھی بجٹ کی بنیاد نہ رکھ سکیں۔اب جو ناظر بیت المال کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ آمدنی کا بجٹ تو اتنا ہے مگر اس میں سے صرف ۷۵ فیصدی وصول ہوگا یہ زہر ہے جو جماعت کے کان میں ڈالا گیا۔جنہوں نے سُنا وہ سمجھیں گے ۷۵ فیصدی کے وصول ہونے کی ہم سے امید ہے یہی دینا چاہئے ، اُن کو سارا دینے کا خیال ہی نہ آئے گا۔اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ ۲۵ فیصدی کم دینا تو اپنا حق سمجھ لیں گے اور پھر ۲۵ فیصدی خود کم کر لیں گے۔یہ نقص اسی طرح دور ہو سکتا ہے کہ کسی جماعت کا جو بجٹ تجویز ہوا گر وہ اُس کے متعلق اپیل کر کے اور معقول وجوہات پیش کر کے تبدیل نہ کرالے اور پھر اسے پورا نہ کرے تو جس قدر کمی رہے وہ اُس کے نام پر قرض دکھائی جائے۔