خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 671

خطاباتِ شورٰی (جلد اوّل ۔1922ء تا 1935ء) — Page 541

خطابات شوری جلد اوّل ۵۴۱ مجلس مشاورت ۱۹۳۳ء اگر یہاں روزہ رکھ لو تو رکھ سکتے ہو اور اگر ظاہری الفاظ کے لحاظ سے اسے سفر سمجھو اور روزہ نہ رکھو تو بھی جائز ہے۔“ اس کے بعد چند ممبران نے مزید اپنی آراء کا اظہار کیا۔اس پر حضور نے فرمایا : - رائے لینے سے پیشتر میں مختلف دوستوں کے دلائل جو جلسہ کے ایام دسمبر سے التواء کے حق میں یا خلاف پیش کئے گئے ہیں اس رنگ میں بیان کرتا ہوں کہ ذہن میں مستحضر رہیں۔میرے خیال میں بعض باتیں اس طرح بیان ہوئی ہیں کہ شاید سارے دوست اُنہیں نہ سمجھ سکے ہوں۔اس تجویز کے متعلق جس دلچسپی کا اظہار کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ احباب میں توجہ اور غور کرنے کے آثار پیدا ہو گئے ہیں۔سیکرٹری صاحب سب کمیٹی کی تقریر میں غلطی سے جو یہ اشارہ ہو گیا کہ جلسہ کے ایام کو بدلا جائے ، اس وجہ سے بعض دوستوں کی تقریروں میں زور پیدا ہو گیا ہے۔حالانکہ سب کمیٹی نے یہی فیصلہ کیا ہے کہ جلسہ کو دوسرے ایام پر ملتوی نہ کیا جائے۔جنہوں نے دسمبر کے ایام میں ہی جلسہ سالانہ ہونے کی تائید میں دلائل دیئے ہیں اُنہوں نے کہا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں انہی ایام میں جلسہ ہوتا رہا ہے اور یہ ہمارے لئے سُنت قائم ہو گئی ہے۔پھر ظاہری سامان بھی انہی ایام میں زیادہ میتر ہیں۔موسم اچھا ہوتا ہے، بہت سے لوگ سمٹ کر تھوڑی جگہ میں رہ سکتے ہیں۔غذا کے سڑنے کا خطرہ نہیں ہوتا ، کھانا کئی گھنٹے پہلے سے پکانا پڑتا ہے۔کئی روٹیاں جس وقت کھانے کے لئے دی جاتی ہیں اس سے دس بارہ گھنٹے پہلے کی پکی ہوئی ہوتی ہیں۔اس طرح سالن پہلے سے پکانا پڑتا ہے۔اگر گرمی کے موسم میں ایسا کیا جائے تو کھانا خراب ہو جائے گا۔اسی طرح گرمی کے موسم میں تقریروں کے وقت بیٹھنا مشکل ہو گا۔یا تو لوگ بہت تکلیف اُٹھائیں گے یا پھر سایہ کے لئے ایسے اخراجات برداشت کرنے پڑیں گے جو بہت زیادہ ہوں گے کم از کم دس بارہ ہزار روپیہ صرف کر کے شیڈ بنانا پڑے گا۔پھر دوسرے ایام میں چھٹیاں بھی بہت قلیل ہوتی ہیں اور بہت تھوڑے لوگوں کو ایک دو دن کی زائد چھٹیاں مل سکیں گی۔اسی طرح ان ایام میں زمینداروں کے لئے بہت مصروفیت ہوتی ہے۔